| 89005 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کاروبار کرائے کی جگہ پر ہے، اس کی تقسیم کس طرح ہوگی ؟کاروباری قرض کی رقم کی ادائیگی کیسے کی جائے گی ؟
چھوٹے بھائی نے اگر کاروبار میں سے کچھ بنایا ہے تو وہ مخفی ہے، اس کا علم صرف اللہ کوہے یا اسے ہے ،میں (بڑا بھائی) صرف اپنی اور اپنے والدین کی اللہ کی بارگاہ میں حقوق سے بری الذمہ ہونے اور دنیا و آخرت سنوارنے کے لئے وراثت کی تقسیم کرنا چاہتا ہوں۔
تنقیح: کاروبار کرائے کی جگہ پر ہے، روزانہ کی بنیاد پر اشیاء آتی ہیں ،جن سے پروڈکٹس بنتی ہیں اور روزانہ ہی فروخت ہوتی ہیں ،کام کبھی زیادہ ہوتا ہے،کبھی کم ، نفع نقصان کا سالوں میں جاکر ہی پتہ لگتا ہے، فوری معلوم کرنا ممکن نہیں۔
والد کی وفات کے وقت کاروباری لین دین کا قرض کم تھا، لیکن اب وہ اس وقت سے تقریبا" دگنا ہے،البتہ اس وقت کے کام کے حساب سے اب کاروبار بھی مستحکم ہے۔
کاروبار آئسکریم کا ہے، جس میں دکان میں موجود سامان میں فریزر ، آئسکریم کی مشینری،دوسرے لوازمات ہیں،جبکہ روزانہ خریداری میں دودھ ، کریم ، ڈرائی فروٹس وغیرہ ہیں ،جن سے روزانہ آئسکریم بنا کر بیچی جاتی ہے،حاصل شدہ دکانداری سے روزانہ کے اخراجات، ملازمین کی تنخواہیں، گھر کے اخراجات،بجلی ، گیس کے بلز ، دکانوں ، گوداموں کے کرائے ،جیب خرچ،وغیرہ ادا کرکے حساب کیا جاتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایسی صورت میں کاروبار کے اثاثہ جات(فریزر،آئسکریم بنانے کی مشینیں اور ان کے علاوہ دکان میں موجود کوئی بھی چھوٹا یا بڑا سامان)ورثا میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوں گے،البتہ تقسیم سے پہلے اب تک کے کاروباری قرض کو اس میں سے منہا کیا جائے گا۔
نیز اس کاروبار سے حاصل ہونے والے نفع میں سب ورثا کا حصہ ہے،اس لئے کسی بھی بھائی کے لئے اس سے اپنے حصے سے زائد نفع لینا جائز نہیں ہے،سوائے ان بھائیوں کے جنہوں نے کاروبار کو سنبھالا ہے کہ وہ اجرت مثل کی صورت میں اپنے حصے سے زائد اپنی محنت کا عوض لے سکتے ہیں،جس کی تفصیل اوپر ذکر کی جاچکی ہے۔
حوالہ جات
......
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
19/ جمادی الاولی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


