03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موروثی کاروبار کی کافی عرصے بعد تقسیم کا حکم
89004میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

والد محترم کے انتقال کے بعد بڑے بیٹے نے کاروبار سنبھالا اور اپنی شادی سمیت 2 بہنوں اور ایک بھائی کی شادی بھی اسی کاروبار سے کی ، کاروبار میں وسعت سمیت ترکہ میں اضافہ کیا،قرآن و سنت کی روشنی میں  وراثت کی تقسیم کس طرح ہوگی ؟آیا جو ترکہ والد کے انتقال کے وقت تھا ،صرف وہی تقسیم ہوگا، یا موجودہ مکمل ترکہ تقسیم ہوگا؟

تنقیح: والد کی زندگی میں ہی بڑا بیٹا ان کے ساتھ کاروبار سنبھالتا تھا، اسی لئے ان کی وفات کے بعد بڑے بیٹے نے ہی کاروبار سنبھالا،جس پر دیگر ورثا کو کوئی اعتراض نہیں تھا ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ والد کی وفات کے بعد  بڑے بیٹے نے تمام ورثا کی رضامندی سے کاروبار کو سنبھالا،اس لئے موجودہ مکمل ترکہ میں سے ورثا کو  مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق حصے دیئے جائیں گے۔

تاہم بڑا بیٹا یا اس کے علاوہ جس نےوالد کی وفات کے بعد اب تک کاروبار کوسنبھالا،اسےمیراث میں اپنے حصے سے اضافی اتنے عرصے کی محنت کا معاوضہ اجرت مثل کی صورت میں لینے کا حق حاصل ہے،جسے درج ذیل باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کیا جائے گا:

ا۔یہ اندازہ لگایا جائے کہ اگر کوئی ملازم اس قسم کا کام کرتا تو اس کی ماہانہ یا سالانہ تنخواہ کتنی ہوتی۔

۲۔یہ اندازہ کم از کم دو ایسے غیر جانبدار لوگوں سے لگوایا جائے،جنہیں اس کاروبار کی نوعیت کا علم ہو،مارکیٹ سے وابستہ لوگ ہوں تو زیادہ بہتر رہے گا۔

۳۔یہ بھی مدنظر رہے کہ کاروبار کو سنبھالنے والا بیٹا اس کاروبار سے اپنے اخراجات بھی وصول کرتا رہا ،اس لیے انہیں بھی اس مجموعی تنخواہ سے منہا کیا جائے گا۔

۴۔اتنی تنخواہ مقرر کرنا درست نہیں ہوگا، جس کی وجہ سے دیگر ورثہ کا اکثر حصہ ختم ہوجائے اور ان کے حصے میں کچھ باقی نہ رہے،یا نہ ہونے کے برابر رہ جائے۔

حوالہ جات

"القواعد الفقهية وتطبيقاتها في المذاهب الأربعة" (1/ 298):

"العادة مُحَكَّمة (م/36)

 التوضيح: إن القاعدة تعني أن العادة عامة كانت أم خاصة تُجعل حكماً لإثبات حكم شرعي لم يُنص على خلافه بخصوصه، فلو لم يرد نص يخالفها أصلاً، أو ورد ولكن عاماً، فإن العادة تعتبر.

وأصل هذه القاعدة قول ابن مسعود، رضي اللہ عنه: "ما رآه المسلمون حسناً فهو عندﷲ حسن، وما رآه المسلمون قبيحاً فهو عندﷲ قبيح ".

وهو حديث موقوف حسن، وإنه وإن كان موقوفاً عليه فله حكم المرفوع، لأنه لا مدخل للرأي فيه  ورواه الإمام أحمد في (كتاب السنة) وأخرجه البزار والطيالسي والطبراني وأبو نعيم في (الحلية) والبيهقي في (الاعتقاد) عن ابن مسعود أيضاً.

وعقد الإمام البخاري في كتاب البيوع، باب من أجرى أمر الأمصار على مايتعارفون بينهم في البيوع والإجارة والمكيال والوزن، وسننهم على نياتهم ومذاهبهم المشهورة، وقال شريح للغزالين: سنتكم بينكم ربحاً...

وقال النبي - صلى اللہ عليه وسلم - لهند: (خذي ما يكفيك وولدك بالمعروف )".

وقال تعالى: (وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ) ، واكترى الحسن من عبد ﷲبن مرداس حماراً، فقال: بكَم؟ قال: بدانقين، فركبه، ثم جاء مرة أخرى، فقال: الحمارَ الحمارَ، فركبه ولم يشارطه، فبعث إليه بنصف درهم أي كالأجرة السابقة التي تعارفا عليها) .

وساق البخاري رحمهﷲ تعالى ثلاثة أحاديث في ذلك، وعقب عليها ابن حجر رحمه اللہ تعالى فقال: (مقصوده بهذه الترجمة إثباته الاعتماد على العرف، وأنه يُقضى به على ظواهر الألفاظ".

وقال النووي رحمه اللہ تعالى في فوائد حديث هند رضي اللہ عنها: "ومنها اعتماد العرف في الأمور التي ليس فيها تحديد شرعي ".

وحدد ابن النجار الفتوحي رحمه اللہ تعالى الضابط للرجوع إلى العرف والعادة، فقال: وضابطه: كل فعل رُتب عليه الحكم، ولا ضابط له في الشرع، ولا في اللغة، كإحياء الموات، والحرز في السرقة، والأكل من بيت الصديق، وما يُعدُّ قبضاً، وإيداعاً، وإعطاء، وهدية، وغصباً، والمعروف في المعاشرة، وانتفاع المستأجر بما جرت به العادة، وأمثال هذه كثيرة لا تنحصر".

"الأشباه والنظائر " (ص: 230):

"استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعمل له".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

19/ جمادی الاولی1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب