03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملازم  یااستادروزانہ دیر سےآئےاوردیرسےجائےتوتنخواہ کا کیاحکم ہے؟
89099اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

سوال :اگر کوئی ملازم یا   استاد اسکول میں روزانہ دیر سے آتا ہو اور شام کو دیر سے جاتا ہو، لیکن دفتری اوقات کی مکمل پابندی نہ کرتا ہو، تو اس صورت میں اس کی مکمل تنخواہ لینا شرعاً کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ادارےکےاصول وضوابط کےمطابق ادارےکےطےشدہ اوقات میں حاضری کاوظیفہ لینا درست ہوگا،اور تاخیرکی صورت میں ادارےکی پالیسی کےمطابق کٹوتی کروانا بھی لازمی ہوگی۔

اضافی اوقات کےحوالےسےادارےکی پالیسی کےمطابق معاوضہ کا حقدارہوگا،اگر پالیسی میں اضافی اوقات کااوورٹائم دینا طےہوتولیناجائزہوگا،ورنہ ملازم کی طرف سےمعاوضہ کامطالبہ شرعادرست نہ ہوگا۔

حوالہ جات

۔

محمد بن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

25/جمادی الاولی     1447ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب