03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا شریک اجیر بن سکتا ہے؟
89054شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

     چار دوست کھیتی باڑی میں شریک ہیں۔ ہر ایک کی اپنی محنت اس میں شامل ہے اور منافع چار حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ان میں سے ایک بندہ کا سبزی منڈی میں کمیشن کا کاروبار ہے۔اس کی باقاعدہ اپنی دوکان اور مکمل سسٹم ہے۔زمیندار اپنی سبزیاں منڈی میں اس کی دوکان پر فروخت کرتے ہیں۔ اسی طرح شراکت کی کھیتی باڑی میں جو سبزی اُگتی ہے، وہ بھی اسی کی دوکان پر فروخت کی جاتی ہے، جہاں مال بیچ کر رقم کی وصولی دکاندار کی ذمہ داری ہوتی ہے۔نیزسبزی والوں کو قیمت فوراً دی جاتی ہے اور اس مکمل حساب کتاب کے لیے مارکیٹ کے حساب سے دس فیصد کمیشن لیا جاتا ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ جبکہ اس کی کھیتی میں چوتھا حصہ بطورشراکت ہے،توکیا اس کے لیے اسی شراکت کی سبزی کمیشن پر فروخت کرنا شرعا درست ہے؟(خلاصہ: کیا شریک اجیر بن سکتے ہے؟)

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں شریک کے لیے بطور اجیر شراکت کی سبزی کومعروف  کمیشن پر فروخت کرنا درست ہے۔

حوالہ جات

الھدایۃ مع البنایۃ:(361-362/9)

وقال الإمام المرغينا نى رحمه الله تعالى: استأجره ليحمل نصف طعامه بالنصف الآخر...

وقال الحافظ العينى رحمه الله تعالى: وقيل ههنا نظران:

الأول فى قوله:حيث لا يجب الأجر(كيف يقول:لا يجب)لأنه قد وجب وقبض وهو نصف الطعام،ثم يقول:لأن المستأجر ملك الأجر.والثانى فى قوله:لأن ما من جزء يحمله إلاوهو عامل لنفسه نظر،فإن هذا منوع،(إلى) ولكن الحق إن الجزء الذى لشريكه ليس هو عاملالنفسه فيه،بل شريكه فهوفى الحقيقة عامل لنفسه، وعامل شريكه فأخذه الأجرة فى مقابلة عمله شريكه. (البنایۃ : 362/9)

رد المحتار(ص 41-40/5)

 وقال الامام الحصكفى رحمه الله تعالى: ولو استأجره ليحمل له نصف هذا الطعام بنصفہ الآخر لا أجرله أصلاً لصيرورته شريكا.

قال ابن عابدين رحمه الله تعالى: قال فى التبيين ومشايخ بلخ  والنسفى يجيزون حمل الطعام ببعض المحمول ونسج الثوب ببعض المنسوج لتعامل أهل بلادهم بذلك ومن لم يجوزه قاسہ على قفيزالطحان والقياس يترك بالتعارف ولئن قلنا أنه ليس بطريق القياس بل النص يتناوله دلالة فالنص يخص بالتعارف ألاترى أن الاستصناع ترك القياس فيه وخص من القواعد الشرعيه بالتعامل ومشا يخنا رحمهم الله لم يجوزوا هذا التخصيص لأن ذلك تعامل أهل بلدة واحدة وبه لا يخص الأثر بخلاف الاستصناع فإن التعامل به جرى فى كل البلاد و بمثلہ  يترك القياس ويخص الأثراھ .

محمد شاہ جلال

دار الافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

23/جماد الاولی 1447ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب