| الطہور شطر الایمان کا معنی | حدیث سے متعلق مسائل کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
جناب میرا بھائی ایک چیز پر بحث کرتا ہے کہ" الطھور شطرالایمان" کا ترجمہ علما نے کیا ہے کہ :صفائی نصف ایمان ہے ،اور اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: اس سے باطنی صفائی بھی مراد ہے ۔ اگر یہ بات ہے تو صفائی صرف نصف ایمان ہی کیوں ؟ کہ باطن صاف ہو جائے تو پھر ہم احکامات الہی پر بھی عمل کریں گے کہ لادینی، حسد ،کفر جیسی باطنی بیماریوں سے بچ جائیں گے ۔ پھر باقی نصف ایمان کونسا ہے جس کا ظاہری و باطنی صفائی سے بالکل تعلق ہی نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایمان کامل اس وقت ہوتاہے جب انسان اخلاق رذیلہ سے پاک ہو اور اخلاق حمیدہ سے متصف ہو جس کو صوفیاء کرام کی اصطلاح میں " تخلیۃ عن الرذائل تحلیۃ بالفضائل " کہاجاتاہے۔
طہارت سے تخلیۃ عن الرذائل ہوتاہے لیکن ایمان کا دوسراحصہ جو تحلیۃ بالفضائل ہے وہ صرف طہارت سے نہیں ہوتا ۔ اس لیے باطنی صفائی کو نصف ایمان کہاگیا۔
حوالہ جات
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (1/ 341)
قال النووي: أصل الشطر النصف، وقال بعض المحققين: الطهور تزكيه عن العقائد الزائغة والأخلاق الذميمة وهي شطر الإيمان الكامل، فإنه تخلية وتحلية.
امداداللہ بن مفتی شہیداللہ
دارالافتاءجامعۃالرشید، کراچی
24/جمادی الاولی /1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | امداد الله بن مفتی شہيد الله | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


