03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بڑے ٹاور میں سے ایک منزل کو مسجد کے لیے وقف کرنے کا حکم
89053وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

میرا ایک چھ منزلہ مکان ہے، جس کی نچلی منزل ،میں نے مسجد کے لیےمکمل طور وقف کر دی ہے۔ اب مفتی صاحب سے میرا سوال یہ ہے کہ: کیا اس مسجد میں پانچ وقت کی نماز اور جمعہ کی نماز ادا کرنا جائز ہے؟ کیا یہ مسجد شرعی کہلائے گی؟ اور کیا اس میں اعتکاف بیٹھنا جائز ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آج کل شہروں  میں  بڑے بڑے تجارتی اور رہائشی ٹاور  ہوتے ہیں جن میں  ہر منزل بلکہ ہر فلیٹ بہت سے اعتبار ات سے  دوسری منزل اور فلیٹ سے بالکل الگ حیثیت رکھتاہے  ، اس لیے جو منزل مسجد کے لیے وقف کی گئی ہو اس کو شرعی مسجد اعتبار کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے  ۔ لہذا اس  میں پانچ وقت کی نماز اور جمعہ کے علاوہ  اعتکاف کے لیے بیٹھنابھی  جائز ہے  ۔نیز اس کا  بحیثیت مسجد  ادب و احترام کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔

ایسی جگہ کو شرعی مسجد قرار دینا امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔ اگرچہ اس قول پر عام طور پر فتوی نہیں دیا جاتا تھا لیکن آج کل ضرورت کی وجہ سے اس کو اختیار کیاگیا ہے  ۔ لہذا مناسب ہے کہ کسی دوسرے دار الافتاء سے بھی مسئلہ معلوم کرلیا جائے ۔

نوٹ: اس سے متعلق تفصیلی فتوی ساتھ لف ہے ۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 20)

وروى الحسن عنه أنه قال: إذا جعل السفل مسجدا وعلى ظهره مسكن فهو مسجد؛ لأن المسجد مما يتأبد، وذلك يتحقق في السفل دون العلو. وعن محمد على عكس هذا؛ لأن المسجد معظم، وإذا كان فوقه مسكن أو مستغل يتعذر تعظيمه. وعن أبي يوسف أنه جوز في الوجهين حين قدم بغداد ورأى ضيق المنازل فكأنه اعتبر الضرورة. وعن محمد أنه حين دخل الري أجاز ذلك كله لما قلنا.

 فتح القدير للكمال ابن الهمام (6/ 235)

(وعن أبي يوسف أنه جوز ذلك في الأولين لما دخل بغداد ورأى ضيق الأماكن و) كذا (عن محمد لما دخل الري) وهذا تعليل صحيح؛ لأنه تعليل بالضرورة.

المحيط البرهاني،9/127

وعن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه أجاز أن يكون الأسفل مسجدا والأعلى ملكا؛ لأن الأسفل أصل، عن محمد رحمه الله تعالى : أنه حين دخل الري  ورأى ضيق الأمكنة جوز ذالك.

درر الحكام شرح غرر الحكام(2/137)

وفي  القاعدية عن أبي حنيفة أنه أجاز وقف المقبرة والطريق كما أجاز المسجد و كذا القنطرة يتخذها رجل للمسلمين و يتطرقون فيها ولايكون بناؤها ميراثالورثته ثم قال  وهذه المسئلة  دليل على جواز وقف البناء بدون الأصل وذكر في الأصل إن وقف البناء بدون أصل الدار لا يجوز .

قال الشرنبلالي في هامش درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/137)

وقال قارئ الهداية في فتاواه :وقف البناء والفرس دون الأرض الفتوى صحة ذلك .

امداداللہ بن مفتی شہیداللہ

دارالافتاءجامعۃالرشید، کراچی

24/جمادی الاولی 1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

امداد الله بن مفتی شہيد الله

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب