| 89042 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کسی لڑکی کا پڑھائی کی غرض سے ایک ایسے شہر جانا جو کہ 78 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر ہو ۔مثلا ملتان یا مظفرگڑھ شہر سے کسی لڑکی کا لاہور یا راولپنڈی یا فیصل آباد جیسے شہر جا نا۔جبکہ اس کے ہمراہ کوئی محرم مرد نہ ہو یا جس شہر میں جا رہی ہے وہاں کوئی محرم مرد موجود نہ ہو، تو کیا ایک محرم مرد کے بغیر یہ سفر کرنے یا وہاں رہ کر پڑھنےکی شریعت میں کوئی گنجائش ہے؟
دو صورت حال میں جواب دیجیے : ایک: ایسی صورتحال میں کہ جس میں رہائش کے علاقے کے قریب 78 کلومیٹر کے اندر شہر میں کوئی ایسی یونیورسٹی نہ ہو جہاں پر وہ تعلیم حاصل کر سکے ، دوسرا :ایسی صورتحال میں کہ جہاں رہائش کے علاقے یا شہر کے 30 سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر یونیورسٹیاں موجود ہوں جہاں وہ تعلیم حاصل کر سکیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خواتین کے لیے ہر قسم کی عصری تعلیم ناگزیر یا اہم نہیں ہوتی ۔ تاہم اگر کوئی ایسا شعبہ ہے جس کی تعلیم خواتین کےلیے مناسب ہو نیز خود پڑھنے والی خاتون پردے اوربے تکلفی سے بچنے کا اہتمام کرتی ہواور ہاسٹل کا ماحول بھی قابل اطمینان ہو تو ایسی صورت میں اولیاء کی اجازت واعتماد سے داخلہ لینے کی گنجائش ہوگی ۔
پھراگر مسافت سفر یعنی تقریبا 78 کلومیٹر سے کم مسافت میں معیاری پڑھائی کا بندوبست ممکن ہو تو اس کے اندر رہتے ہوئے پڑھائی کا انتظام کرے۔ اوراگر ضرورت کی وجہ سے مسافت سفر یعنی تقریبا 78کلومیٹرسے زیادہ فاصلے پر کسی ادارے میں جاکر پڑھنا ناگزیر ہو تووہاں داخلہ لے سکتی ہے ۔ لیکن اس صورت میں یونی ورسٹی تک جانے کےلیے کسی مرد محرم کے ہمراہ سفر کرنا ضروری ہے ۔
پھر اگر ہاسٹل قابل اطمینان ہے تو وہاں محرم کے بغیر قیام کرسکتی ہے ۔
حوالہ جات
قال الله تبارك و تعالى : وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ، [الأحزاب: 33].
صحيح مسلم (2/ 975)
عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لا يحل لامرأة، تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم.
صحيح مسلم (4/ 1709)
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنه قد أذن لكن أن تخرجن لحاجتكن.
فتح الباري لابن حجر (1/ 250)
قال ابن بطال: فقه هذا الحديث أنه يجوز للنساء التصرف فيما لهن الحاجة إليه من مصالحهن
التفسير المظهري (7/ 338)
أمر بالقرار فى البيوت وعدم الخروج بقصد المعصية كما يدل عليه قوله تعالى "وَلا تَبَرَّجْنَ" فإنه عطف تفسيري وتأكيد معنى، وليس فى الآية نهي عن الخروج من البيت مطلقا وإن كان للصلوة أو الحج أو لحاجة الإنسان.
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 133)
ويعتبر في المرأة أن يكون لها محرم تحج به أو زوج ولا يجوز لها أن تحج بغيرهما إذا كان بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام.
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (1/324)
أن النسوة المسلمات لاينبغي لهن السفر إلى غير بلاد المسلمين للدراسة أو الاكتساب وأما إذا كانت المرأة قد توطنت إحدى هذه البلاد مع محارمها ثم بقيت مفردة لموت محارمها أو انتقالهم من ذالك المكان لسبب ما فإنها لا مانع لها من الإقامة بمفردها ما دامت ملتزمة بأحكام الشرع في الحجاب.
امداداللہ بن مفتی شہیداللہ
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
24/جمادی الاولی1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | امداد الله بن مفتی شہيد الله | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


