03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اینٹوں میں منافع کی شرط کے ساتھ پیسہ لگانے کا حکم
89055خرید و فروخت کے احکامسلم اور آرڈر پر بنوانے کے مسائل

سوال

میرا ایک محلے دار اینٹوں کے بھٹے کا کاروبار کرتا ہے۔ اس نے مجھے پیش کش کی کہ تم مجھ سےاینٹ خرید کے رکھ لو، میں تمہیں موجودہ ریٹ کے مطابق بعد میں منافع دینے کا وعدہ کرتا ہوں۔ میں نے ٹرالی  30000 روپے فی ٹرالی، ٹسو ساڑھے پانچ روپے فی ٹسو، اور ٹائل پندرہ روپے فی ٹائل کے حساب سے بک کروائے۔ اب جب میں نے اپنی اصل رقم اور منافع کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا کہ بھٹہ نقصان کی وجہ سے بند ہو گیا ہے، اس لیے وہ وعدے کے مطابق نفع نہیں دے سکتا، البتہ کچھ نہ کچھ دے دے گا۔ تاحال اس نے معاہدہ منسوخ نہیں کیا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ ریٹ کے مطابق اصل رقم اور نفع کا مطالبہ کرنا شرعا صحیح ہے یا غلط؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ بھٹے سے اینٹیں عموماً تین طریقوں سے لی جاتی ہیں:بیع سلم، استصناع، اور بیع مطلق۔ ہر عقد کی اپنی مستقل شرائط ہوتی ہیں۔ صورت مسئولہ میں "خرید کے رکھ لو" کے الفاظ سے بیع حال کا معاملہ معلوم ہوتا ہے۔

اگر اینٹیں متعین نہ تھی، تو درحقیقت  یہ قرض دیا گیا ہے، اور قرض پر نفع کی شرط شرعاً حرام ہے۔ ایسی صورت میں صرف اصل رقم واپس لی جائے گی، نفع لینا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے،نیز اس پر دل سے توبہ و استغفار واجب ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 2)

   أما صورةا لاستصناع فهي أن يقول إنسان لصانع - من خفاف أو صفار أو غيرهما -: اعمل لي خفا، أو آنية من أديم أو نحاس، من عندك بثمن كذا، ويبين نوع ما يعمل وقدره وصفته، فيقول الصانع: نعم... وأما شرائط جوازه (فمنها) : بيان جنس المصنوع، ونوعه وقدره وصفته؛ لأنه لا يصير معلوما بدونه.

  (ومنها) : أن يكون مما يجري فيه التعامل بين الناس - من أواني الحديد والرصاص، والنحاس والزجاج، والخفاف والنعال، ولجم الحديد للدواب، ونصول السيوف، والسكاكين والقسي، والنبل والسلاح كله، والطشت والقمقمة، ونحو ذلك - ولا يجوز في الثياب؛ لأن القياس يأبى جوازه، وإنما جوازه - استحسانا - لتعامل الناس، ولا تعامل في الثياب.(ومنها): أن لا يكون فيه أجل، فإن ضرب للاستصناع أجلا؛ صار سلما ...وأما صفة الاستصناع: فهي أنه عقد غير لازم قبل العمل في الجانبين جميعا، بلا خلاف، حتى كان لكل واحد منهما خيار الامتناع قبل العمل، كالبيع المشروط فيه الخيار للمتبايعين: أن لكل واحد منهما الفسخ؛ لأن القياس يقتضي أن لا يجوز؛ لما قلنا.وإنما عرفنا جوازه استحسانا؛ لتعامل الناس، فبقي اللزوم على أصل القياس.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 134)

  يجب أن يعلم أن الاستصناع جائز في كل ما جرى التعامل فيه كالقلنسوة والخف والأواني المتخذة من الصفر والنحاس وما أشبه ذلك استحساناً، ولا يجوز فيما لم يجر التعامل فيه كالثياب وما أشبهها... وقال محمد رحمه الله: إذا أتى به الصانع كان المستصنع بالخيار؛ لأنه اشترى شيئاً لم يره ولو انعقد إجارة ابتداء وانتهاء لم يكن له خيار الرؤية كما في الخياطة والصباغ...

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (6/ 185)

  "الاستصناع لغة طلب عمل الصانع وشرعا أن يقول لصاحب خف أو مكعب أو صفار اصنع لي خفا طوله كذا وسعته كذا أو دستا أي برمة تسع كذا ووزنها كذا على هيئة كذا بكذا وكذا ويعطي الثمن المسمى أو لا يعطي شيئا فيقبل الآخر منه الثاني في دليله وهو الإجماع العملي وهو ثابت بالاستحسان..."

محمد شاہ جلال

دار الافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

  23/جماد الاولی/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب