| 89067 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک مکان کے ورثہ میں دو بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ دونوں بہنیں بڑی اور بیوہ ہیں۔ والد صاحب کی رحلت کے بعد مکان والدہ محترمہ کے نام ہو گیا۔ 2017 میں والدہ کی و فات ہو گئی۔ 2022 میں مکان تمام شرعی ورثہ کے نام منتقل ہوگیا۔ اب اس مکان کی فروخت اور اس کے حصوں کی تقسیم کا مرحلہ درپیش ہے۔ اب تقسیم میں درپیش مسائل کا اختصاریہ ہے کہ والدہ کے انتقال کے بعد سے بڑے بھائی اپنے اہل و عیال کے ساتھ پورے مکان میں رہ رہے ہیں۔ چھوٹے بھائی اپنے اہل و عیال کے ساتھ بیرون ملک مقیم تھے ،اور سالانہ چھٹیوں میں پاکستان آتے تھے اور اسی مکان میں قیام ہوتا تھا۔ اس اثناء میں 2019 میں بڑے بھائی نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بہنوں اور بھائی سے رسمی اجازت کے بعد دوسری منزل بناکر 2020 میں کرائے پر دے دی۔ اس اوپری منزل پر خرچہ بڑے بھائی نے ہی کیا تھا۔ چھوٹے بھائی 2024 میں مستقل بنیادوں پر پاکستان واپس آگئے اور اسی مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ سوالات یہ ہیں کہ: 1۔ والدہ کے انتقال کے بعد بھائی جتنا عرصہ وہاں رہے ہیں کیا وہ اس مدت کا کرایہ باقی ورثہ کو دینے کے پابند ہیں؟ اگر ہیں تو اسکی تقسیم کس طرح سے ہوگی؟ 2۔ دوسری منزل سے کرایہ کی مد میں وصول شدہ رقم کی تقسیم دیگر ورثہ میں کس طرح سے ہوگی؟ 3۔ چھوٹے بھائی اگست 2024 میں مستقلا واپس آکر اسی مکان میں بڑے بھائی کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ کیا وہ بھی اس مدت کا کرایہ باقی ورثہ کو ادا کرنے کے پابند ہیں؟ 4۔ اس مکان میں خاندان (والدہ، بڑے بھائی مع اہلیہ اور چھوٹے بھائی) کی منتقلی 1989 میں ہوئی تھی۔ اس موقع پر بڑے بھائی نے مکان کی مرمت اور تزئین و آرائش کی، جو والد صاحب کی جمع شدہ رقم سے کی گئی۔ بعد ازاں 1995 میں پھر سے ترمیم و تعمیر ہوئی جو بڑے بھائی کے بقول ان ہی کے پیسوں سے کی گئی۔ آخری ترمیمی کام 2019 میں ہوا۔ دوسری منزل کی تعمیر کے ساتھ نچلی منزل میں بھی کام ہوا اور اس کے جملہ اخراجات بھی بڑے بھائی نے اٹھائے۔ ان مواقع پر خرچ شدہ رقم کا حساب و کتاب کیسے ہوگا ؟یعنی ورثہ پر کیسےتقسیم کیا جائے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۔آپ کے بھائی کو چاہیے تھا کہ والدہ کی وفات کے بعد فورا مکان ورثہ میں تقسیم کردیتے تاکہ ہر وارث کو اس کا حق مل جاتا،اس لیے کہ بغیرمعتبر عذر کے میراث کی تقسیم میں تاخیر درست نہیں ۔
اگر مکان فوری تقسیم کرنا ممکن نہ تھا تو آپ کے بھائی کو چاہیے تھا کہ رہائش اختیار کرنے سے پہلے باقی ورثہ سے اجازت لے لیتے،تاکہ ان کی ملکیت ان کی اجازت سے استعمال ہوتی ۔تو یہ ایک جائز تصرف ہوتا،یا مناسب کرایہ مقرر کردیتے تاکہ ہر وارث کو اپنی ملکیت کی وجہ سے کرایہ ملتا رہتا ۔
آپ کے بھائی بڑے تھے،بظاہر میراث کے حوالے سے اختیار انہی کے پاس ہوگا ،جبکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا تو انہیں اس نامناسب استعمال پر استغفار کرنا چاہیے ۔
آپ کے بھائی نے جتنا عرصہ باقی ورثہ کی ملکیت سے نفع حاصل کیا ہے اس کا اخلاقی تقاضا ہے کہ وہ ورثہ کے ساتھ احسان والا معاملہ کریں،ان کو بطور تلافی اپنی سہولت کے مطابق ادائیگی کریں ۔
نیز آپ کے بھائی کو چاہیے کہ ورثہ کے مطالبے کے بعد فی الفور مکان ورثہ میں تقسیم کردیں ،جب تک تقسیم نہ ہو تو ورثہ کی رضامندی سے مناسب کرایہ مقرر کردیں ،تاکہ ہر وارث کو اس کی ملکیت کی وجہ سے کرایہ ملتا رہے۔
۲۔ورثہ میں کرایہ میراث کے حصوں کی بقدر تقسیم ہوگا ،کل کرایہ کے چھ حصے کیے جائیں گے ،جن میں سے چار حصے دو بھائیوں کو اور ایک ایک حصہ ہر ایک بہن کو ملے گا۔یعنی فیصدی اعتبار سے 33.33فیصد ہر بھائی کو اور 16.66فیصد ہر بہن کو ملے گا۔اور جو دوسری منزل سے اب تک کرایہ حاصل ہوا ہے وہ بھی اسی ترتیب کے مطابق تقسیم ہوگا بڑے بھائی باقی ورثہ کو دینے کے پابند ہوں گے۔
۳۔چھوٹے بھائی بھی جتنا عرصہ اس مکان میں رہے اس کا کرایہ اس کے ذمہ نہیں ہے۔
۴۔ جو اخراجات بھائی نے اپنے مال سے کیے ہیں وہ شرعی حصص کی بقدر باقی ورثہ سے وصول کرے گا ،یعنی کل خرچے کے چھ حصے بنائے جائیں گے جن میں سے صرف دو حصے بھائی سے اور ایک ایک حصہ بہنوں سے وصول کرے گا ۔
حوالہ جات
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي) (6/ 153(:
فشركة الأملاك: العين يرثها رجلان أو يشتريانها فلا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بإذنه، وكل منهما في نصيب صاحبه كالأجنبي)
شرح المجلہ للعلامہ الاَتاسی)،(701/2:
شرح المادة 597: لأن الدار المشترکة فی حق السکنی و ما کان من توابعها تجعل کالمملوکة لکل واحد من الشریکین علی سبیل الکمال؛ إذ لو لم تجعل کذلك منع کل واحد من الدخول والقعود و وضع الأمتعة، فتتعطل علیه منافع ملکه، وإنه لایجوز، وإذا جعلنا ها هکذا صار الحاضر ساکنا فی ملك نفسه، فکیف یجب علیه الأجر؟ (حموی عن العمادیة)
درر الحكام فی شرح مجلة الأحكام۱/۵۸۸(
شرح المادة 597: مسائل تتفرع عن ذلك: أولًا: مثلًا لو تصرف أحد الشركاء تغلبًا في المال المشترك كالدار والحانوت مدةً بدون إذن شريكه مستقلًا واستعمله بنفسه، فليس للشريك الآخر أخذ أجرة حصته؛ لأنه استعمله على أنه ملكه، كما أنه ليس له أن يطالب بسكنى الدار وحده بقدر ما سكنها شريكه، انظر المادة ( 1083 )، حتى أن الساكن إذا دفع إلى شريكه أجرة حصته يزعم أنها تلزمه فله استردادها بعد ذلك، انظر المادة ( 97 ) .ويستفاد من المثال أن ذلك خاص باستعمال الشريك بالذات، ولا دخل لإيجاره من آخر؛ لأن الشريك إذا لم يستعمل المال المشترك مستقلًا بنفسه، وآجره كله من آخر وأخذ أجرته لزمه رد أجرة شريكه إليه . مثلًا لو آجر أحد الشركاء الحمام المشترك بين ثلاثة، ولكل منهم ثلثه، من آخر وأخذ أجرته لزمه أن يعطي لشريكيه ثلثي الأجرة ،وسنفصل هذه المسألة، وتوضح في المادة ( 1077 ، لكن إيجار أحد الشركاء المال المشترك على هذا الوجه أو إعارته غير جائزة ديانة؛ إذ التصرف في ملك الغير بلا إذن حرام ، ولا يمنع قضاء؛ إذ الإنسان لا يمنع من التصرف فيما بيده إذا لم ينازعه فيه أحد ( التنقيح، رد المحتار، علي أفندي ) .
درر الاحکام فی شرح مجلۃالاحکام(310/3):
الخلاصة: إن نفقات الأموال المشتركة تعود على الشركاء بنسبة حصصهم في تلك الأموال حيث إن الغرم بالغنم.
شرح المجلہ للاَتاسی،(14/4) :
الأموال المشترکة شرکة الملک تقسم حاصلاتها بین أصحابها علی قدر حصصهم.
سلیم اصغر بن محمد اصغر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
21/الاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


