| 89143 | خرید و فروخت کے احکام | قرض اور دین سے متعلق مسائل |
سوال
1988 میں ہاؤس بلڈنگ فائنانس کارپوریشن کے قرض کی مدد سے ایک مکان خریدا گیا تھا،قبضہ حاصل کرنے کے لیے 420,000 یا 450,000 ادا کیے گئے ۔
تقریباً 350,000 روپے قرض کی مد بقایا میں تھے ،جسے بیوی، اس کی بہن اور اس کے بھائی (جو ابھی زندہ ہیں) کی وراثت کی رقم سےادا کیا گیا تھا،جنہوں نے اپنی وراثت کی یہ رقم اپنی بہن (بیوی) کو تحفے میں دی تھی، تاکہ وہ سود پر قرض کے بغیر اپنا گھر بسا سکے،اب اس کا شوہر جائیداد بیچنا چاہتا ہے اور موجودہ جائیداد کی قیمت تقریباً 2.5 کروڑ ہے۔
ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اس وقت یہ بتایا نہیں گیا تھا کہ یہ رقم بیوی کی طرف سے اس کے شوہر کو تحفے میں دی گئی تھی، مگر اسے قرض کا تصفیہ کرنے کے لیے دی گئی تھی، تاکہ وہ بہتر زندگی سے لطف اندوز ہو سکیں اور قرض کی قسط زیادہ دیر تک ادا نہ کرنی پڑے،اب اگر شوہر گھر بیچتا ہے توکیا بیوی کو اس رقم کے تناسب سے اس میں سے حصہ ملے گا جو اس نے ادا کی تھی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ مکان شوہر نے خریدا تھااور کچھ رقم دے کر قبضہ بھی حاصل کرلیا تھا،بیوی نے مکان کی بقیہ قیمت کی ادائیگی میں شوہر کے ساتھ تعاون کیا اور رقم دیتے وقت انہوں نے نہ اس بات کی کوئی تصریح کی تھی کہ وہ اس رقم کے تناسب سے اس گھر میں شریک ہوں گی اور نہ ان کی اس قسم کی کوئی نیت تھی،اس لئے یہ گھر اکیلے شوہر کی ملکیت ہے،بیوی کا اس میں حصہ نہیں ہے،البتہ یہ رقم قرض شمار ہوگی،لہذا شوہر کے ذمے بیوی کو اتنی رقم کی ادائیگی لازم ہے۔
تاہم چونکہ جس وقت یہ رقم دی گئی تھی اس وقت کے حساب سے اس رقم کی حیثیت بہت زیادہ تھی اور اب پیسے کی قدر کی گراوٹ کی وجہ سے اس کی وہ حیثیت نہیں رہی،اس لئے مروتا اور اخلاقا شوہر کو چاہیے کہ حسن ادا پر عمل کرتے ہوئےاصل رقم سے اتنی رقم زیادہ بیوی کو دے جس سے اس فرق کی کسی نہ کسی درجے میں تلافی ہوجائے،لیکن اگر شوہر اضافی رقم کی ادائیگی پر بخوشی آمادہ نہ ہو تو اسے اس پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
حوالہ جات
"رد المحتار"(3/ 848):
"مطلب: الديون تقضى بأمثالها.
(قوله: بل وصف للذمة إلخ) ولهذا قيل :إن الديون تقضى بأمثالها على معنى أن المقبوض مضمون على القابض؛ لأن قبضه بنفسه على وجه التملك ولرب الدين على المدين مثله، فالتقى الدينان قصاصا وتمامه في البحر".
"صحيح البخاري" (3/ 116):
2390 –" حدثنا أبو الوليد، حدثنا شعبة، أخبرنا سلمة بن كهيل، قال: سمعت أبا سلمة، بمنى يحدث عن أبي هريرة رضي ﷲ عنه: أن رجلا تقاضى رسول ﷲ صلى ﷲ عليه وسلم، فأغلظ له فهم به أصحابه، فقال: «دعوه، فإن لصاحب الحق مقالا، واشتروا له بعيرا فأعطوه إياه» وقالوا: لا نجد إلا أفضل من سنه، قال: «اشتروه، فأعطوه إياه، فإن خيركم أحسنكم قضاء» ".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
26/جمادی الاولی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


