03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خلوتِ صحیحہ کے بعد تین بار “تجھے دے دی” کہنے کا شرعی حکم
89120طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرا نکاح اپریل 2024 میں ہوا تھا اور میرے نکاح کو 1.5 سال ہوگیا ہے اور رخصتی ابھی نہیں ہوئی۔ میرا میری زوجہ سے اختلاف ہے اس بات پر کہ وہ اپنی پھوپھی کے گھر نہ جائے۔ آج سے تقریباً سات ماہ پہلے میری زوجہ بغیر میری اجازت کے اپنی پھوپھی کے گھر گئی۔ جب میں نے فون پر رابطہ کیا تو ان کا نمبر بند جا رہا تھا،لہٰذا میں نے ان کی کزن کے نمبر پر کال کی تو معلوم ہوا کہ وہ اس وقت باہر جا رہی ہے۔ مجھے بہت غصہ آیا تو کال پر ہی بحث شروع ہوگئی جس پر میں نے انہیں کہا کہ اگر تم میری بات نہیں سنوگی یا نہیں مانوگی تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا یا اگر تم میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں۔ تو وہ اس پر مزید بولنے لگیں تو غصے میں میں نے غیر ارادی طور پہ یہ کہہ دیا کہ "جا، تجھے دی، دی، دی "۔ مگر میرا اورمیری زوجہ میں سے کسی کی بھی طلاق کی نیت نہیں تھی اور یہ سارا معاملہ کال پر ہوا تھا اور اس سارے معاملے میں تین سے چار دفعہ کال کٹ گئی تھی اور جب میں نے یہ کہا "جا، تجھے دی، دی، دی "تو اس وقت بھی وہ کال پر نہیں تھی۔

اس وقت میں قریبی مسجد کے امام جو کہ مفتی بھی ہیں ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا یہ کنائی الفاظ ہیں تو اگرآپ کی کوئی نیت نہ تھی تو ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اور ابھی دو ماہ پہلے بھی ہماری لڑائی ہو رہی تھی تو مجھے علم نہ تھا کہ لفظ "حرام" سے بھی طلاق ہو جاتی ہے تو اس وقت میں نے اپنی زوجہ کو کہہ ایک دفعہ کہدیا تھا کہ "تو مجھ پر حرام ہے"۔ جب یہ معاملہ مفتی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ کی ایک طلاق بائن ہوگئی ہے جس کے بعد ہم نے نئے حق مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کیا۔اس معاملے میں میری رہنمائی فرمائیں شکریہ۔

سائل نے فون پر بتایا کہ خلوتِ صحیحہ ہوئی ہے مگر دخول نہیں ہوا، نیز بتایا کہ میں نے دو تین دارالافتاءات سے بھی زبانی مسئلہ پوچھا ہے وہ سب تین طلاقوں کے وقوع کا کہہ رہے ہیں، کیونکہ اس لفظ کا اور کوئی مطلب نہیں بنتا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

غصہ اور بحث و تکرار کے وقت بیوی سے "جا، تجھے دے دی" کہنا طلاق کے علاوہ کوئی اور مفہوم نہیں

رکھتا؛ لہٰذا اس لفظ سے طلاق واقع ہوگی۔ اور چونکہ خلوتِ صحیحہ ہوچکی ہے، جو شرعاً بعض مسائل جیسے ثبوتِ نسب، تاکیدِ مہر، نفقہ، سکنی، عدت، اور راجح قول کے مطابق دوسری طلاق کے واقع ہونےمیں دخول (ہم بستری) کے قائم مقام ہے، اور سائل نے یہ لفظ تین دفعہ کہا ہے، لہٰذا مسئولہ صورت میں سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے۔ اس لیے اب آپ دونوں میں حلالہ کے بغیر نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی نکاح۔

حوالہ جات

وفی الدرالمختار ( ۱۱۴/۳۔۱۱۸):

( والخلوة ) مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء ( بلا مانع حسي ) كمرض لأحدهما يمنع الوطء ( وطبعي ) كوجود ثالث عاقل ۔۔۔  ( ولو ) كان الزوج ( مجبوبا أو عنينا أو خصيا ) ۔۔۔ ( في ثبوت النسب ) ولو من المجبوب ( و ) في ( تأكد المهر ) المسمى  ( و ) مهر المثل بلا تسمية و ( النفقة والسكنى والعدة وحرمة نكاح أختها وأربع سواها ) في عدتها( وحرمة نكاح الأمة ومراعاة وقت الطلاق في حقها )وكذا في وقوع طلاق بائن آخر على المختار .

وفی حاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 / 119)

قوله ( وكذا في وقوع طلاق بائن آخر الخ ) في البزازية والمختار أنه يقع عليها طلاق آخر في عدة الخلوة وقيل لا اھ وفي الذخيرة وأما وقوع طلاق آخر في هذه العدة فقد قيل لا يقع وقيل يقع وهو أقرب إلى الصواب لأن الأحكام لما اختلفت يجب القول بالوقوع احتياطا ۔۔۔ والحاصل أنه إذا خلا بها خلوة صحيحة ثم طلقها طلقة واحدة فلا شبهة في وقوعها، فإذا طلقها في العدة طلقة أخرى فمقتضى كونها مطلقة قبل الدخول أن لا تقع عليها الثانية، لكن لما اختلفت الأحكام في الخلوة في أنها تارة تكون كالوطء وتارة لا تكون جعلناها كالوطء في هذا فقلنا بوقوع الثانية احتياطا لوجودها في العدة، والمطلقة قبل الدخول لا يلحقها طلاق آخر إذا لم تكن معتدة بخلاف هذه.والظاهر أن وجه كون الطلاق الثاني بائنا هو الاحتياط أيضا، ولم يتعرضوا للطلاق الأول. وأفاد الرحمتي أنه بائن أيضا لأن طلاق قبل الدخول غير موجب للعدة لأن العدة إنما وجبت لجعلنا الخلوة كالوطء احتياطا، فإن الظاهر وجود الوطء في الخلوة الصحيحة ولأن الرجعة حق الزوج وإقراره بأنه طلق قبل الوطء ينفذ عليه فيقع بائنا.

وفی الددر المختار مع الشامی(ج۲ص۵۶۱)

لا تکون (الخلوۃ الصحیحۃ) کالوطء في حق بقیۃ الأحکام کالغسل والإحصان وحرمۃ البنات وحلھا للأول الخ قولہ وحلھا للأول أي لاتحل مطلقۃ الثلث للزوج الأول بمجردخلوۃ الثانی بل لابد من وطئہ لحدیث العسیلۃ .

وفی بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع - (3 / 109)

ولو خلا بها خلوة صحيحة ثم طلقها صريح الطلاق وقال: لم أجامعها كان طلاقا بائنا حتى لا يملك مراجعتها وإن كان للخلوة حكم الدخول؛ لأنها ليست بدخول حقيقة فكان هذا طلاقا قبل الدخول حقيقة فكان بائنا.

وفی البحر الرائق - (3 / 166)

وفي الرجعة فلا يصير مراجعا بالخلوة ولا رجعة له بعد الطلاق الصريح بعد الخلوة وأما في حق وقوع طلاق آخر

ففيه روايتان والأقرب إلى الصواب الوقوع؛ لأن الأحكام لما اختلفت يجب القول بالوقوع كذا في الذخيرة.

وفی الفتاوى الهندية - (1 / 540)

ولو خلا بامرأته خلوة صحيحة، ثم طلقها صريحا وقال: لم أجامعها فصدقته أو كذبته وجبت عليها العدة، ولها كمال المهر، فإن قال لها: راجعتك لم تصح المراجعة.

وفی القران المجيد[البقرة: 230]

{ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ }

وفی احکام القرآن للشيخ ظفر احمد العثماني(رح):(۱/۵۰4)

﴿قوله تعالي: فان طلقها فلا تحل له حتي تنکح زوجا غيره﴾ اي انه اذا طلق الرجل امرأته طلقة ثالثة بعد ما ارسل عليها الطلاق مرتين فانها تحرم عليه حتي تنکح زوجا غيره اي حتي يطأها زوج اخر في نکاح صحيح.

عن عائشة، أن رجلاً طلق امرأته ثلاثاً، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله  عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»''.الراويعائشة أم المؤمنين | المحدث البخاري | المصدرصحيح البخاريالصفحة أو الرقم: 5261 | خلاصة حكم المحدث : [صحيح[

فی سنن ابن ماجة (ج 2 / ص 152)باب من طلق ثلاثا في مجلس واحد 2024

حدثنا محمد بن رمح . أنبأنا الليث بن سعد ، عن إسحاق بن أبى فروة ،عن أبى الزناد ، عن عامر الشعبى  قال : قلت لفاطمة بنت قيس :حدثينى عن طلاقك . قالت : طلقني زوجي ثلاثا ، وهو خارج إلى اليمن فأجاز ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم .

الفتاوى الهندية - (ج 10 / ص 196)

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

05/جمادی الثانیہ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب