| 89130 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میری ایک میڈیکل/نفسیاتی کیفیت ہے جسے ڈاکٹرMisophoniaکہتے ہیں۔ جس میں بعض مخصوص آوازیں جیسے کھانسنے، گلا صاف کرنے اور سونگھنے کی آوازیں ذہن میں شدید تکلیف، بے چینی اور اضطراب پیدا کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے مجھے مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے میں بہت دقت پیش آتی ہے۔ کئی مرتبہ میرا دھیان بالکل نماز سے ہٹ جاتا ہے اور وہاں کھڑا رہنا میرے لیے انتہائی مشکل اور تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔درج ذیل باتوں کے حوالے سے رہنمائی چاہییے:
کیا اس کیفیت کی بنا پر میرے لیے جماعت کی نماز گھر پر ادا کرنا جائز ہوگا؟اگر میں مسجد جاؤں تو کیا میں ہلکے ear-plugs یا noise-cancelling devices استعمال کر سکتا ہوں تاکہ تکلیف دہ آوازیں کم ہوں اور میں امام کی پیروی بھی درست طریقے سے کر سکوں؟میری اس کیفیت کے لحاظ سے شریعت کی رو سے میرے لیے صحیح اور مناسب طریقہ کیا ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر امام کی اقتدا میں کوئی رکاوٹ نہیں تو ear-plugs یا noise-cancelling devices استعمال کرسکتے ہیں۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 107):
ويكره التلثم وهو تغطية الأنف والفم في الصلاة والتثاؤب فإن غلبه فليكظم ما استطاع فإن غلبه وضع يده أو كمه على فمه.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 652):
يكره اشتمال الصماء والاعتجار والتلثم والتنخم.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 555):
فلا تجب على مريض ومقعد وزمن ومقطوع يد ورجل من خلاف) أو رجل فقط.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 83):
«وتسقط الجماعة بالأعذار حتى لا تجب على المريض والمقعد والزمن ومقطوع اليد والرجل من خلاف ومقطوع الرجل والمفلوج الذي لا يستطيع المشي والشيخ الكبير العاجز والأعمى عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - والصحيح أنها تسقط بالمطر والطين والبرد الشديد والظلمة الشديدة.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 133):
«وتسقط الجماعة بالأعذار حتى لا تجب على المريض والمقعد والزمن ومقطوع اليد والرجل من خلاف ومقطوع الرجل.
اسفندیارخان بن عابد الرحمان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
05/جمادی الآخرۃ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسفندیار خان بن عابد الرحمان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


