| 89115 | شرکت کے مسائل | شرکت متناقصہ کا بیان |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! میں سرکاری ہاؤسنگ اسکیم "میرا گھر میرا آشیانہ" میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ یہ اسکیم میزان بینک اور دیگر کمرشل بینکوں کے ذریعے بھی دستیاب ہے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ اسکیم شرعی طور پر سود (ربا) سے پاک ہے اور اس میں شامل ہونا جائز ہے؟ جزاکم اللہ خیراً۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اسلامی بنکوں میں ہاؤسنگ اسکیم میں شامل ہونے کے لیے عموماً شرکتِ متناقِصہ کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابتدا میں بینک اور صارف مشترکہ رقم سے ایک مکان خریدتے ہیں اور دونوں اس مکان میں شریک ہوجاتے ہیں۔ پھر بینک اپنے حصے کو مختلف یونٹس میں تقسیم کرتا ہے، اور کلائنٹ مقررہ اوقات میں بینک کے حصے کا ایک ایک یونٹ خریدتا جاتا ہے۔ اس طرح وقت کے ساتھ صارف کا حصہ بڑھتا جاتا ہے اور بینک کا حصہ کم ہوتا جاتا ہے۔
بینک کے حصے کے جتنے یونٹس صارف نے ابھی تک نہیں خریدے ہوتے، وہ کلائنٹ ان یونٹس کو استعمال کرتا ہے اور ان کے بدلے بینک کو کرایہ ادا کرتا ہے۔ چونکہ یونٹس کی خریداری کے ساتھ بینک کا حصہ مسلسل کم ہوتا ہے، اس لیے کرایہ بھی اسی تناسب سے کم ہوتا جاتا ہے۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اس اسکیم میں بنیادی طور پر تین الگ الگ عقد کیے جاتے ہیں: شِرکت ، اِجارہ ، بیع ،
اگر یہ تینوں عقود مستقل طور پر علیحدہ علیحدہ منعقد کیے جائیں اور کوئی عقد دوسرے پر مشروط نہ ہو، نیز ان تینوں عقود کے صحیح ہونے کی باقی تمام شرائط موجود ہوں تو ایسی اسکیم میں شامل ہونا جائز ہے۔
میزان بینک اور دیگر اسلامی بینک ان شرائط کو پورا کرنے کا اہتمام کرتے ہیں؛ لہٰذا ان کے ذریعے شرکتِ متناقصہ کی بنیاد پر سرکاری ہاؤسنگ اسکیم میں شامل ہونا جائز ہے۔ البتہ غیر اسلامی (روایتی) بینکوں میں ان شرائط کا اہتمام نہیں ہوتا، لہٰذا ان کے ذریعے اسی بنیاد پر ہاؤسنگ اسکیم میں شامل ہونا جائز نہیں ہے۔
تاہم معاہدہ کرنے سے قبل بینک کے عملے سے مکمل تفصیلات اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے، تاکہ دل کا اطمینان حاصل ہو سکے اور ادائیگی میں مشکل یا ڈیفالٹ کی صورت میں ممکنہ نتائج سے آگاہی رہے، تاکہ کسی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حوالہ جات
المعاییر الشرعیۃ:12
المشاركة المتناقصة عبارة عن شركة يتعهد فيها أحد الشركاء بشراء حصة الآخر تدریجیا إلى أن يتملك المشتري المشروع بكامله، ولا بد أن تكون الشركة غير مشترط فيها البيع والشراء، وإنما يتعهد الشريك بذلك بوعد منفصل عن الشركة،وكذلك يقع البيع والشراء بعقد منفصل عن الشركة، ولا يجوز أن يشترط أحدالعقدين في الآخر.
مجمع الزوائد : 484
عن عبد الله بن مسعود رضی الله عنه قال نهى رسول الله ﷺ عن صفقتين في صفقة واحده
رد المحتار مع الدر المختار : (468/6) ، كتاب الشركة، دار الكتب العلمية
قال العلامة ابن عابدين الشامي رحمه الله تعالى : لوباع أحد الشركين في البناء حصته لأجنبي لا يجوز ولشريكه جاز.
عبداللہ المسعود
دارالافتا ء،جامعۃالرشید کراچی
۵⁄جمادی الاخری ⁄۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


