| 89132 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته میں نے ایک لڑکی سے کچھ مجبوری اور سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر نکاح کیا تھا۔ اُس وقت میں ایک بڑی مصیبت میں تھا اور مجھے کم از کم بیس سال قید ہونے کا خطرہ تھا۔ اُس لڑکی نے میری مدد کے لیے، میری سفارش پر، اپنے والدین کو بتائے بغیر مجھ سے نکاح کرلیا۔ اُس وقت جلدی اور ضرورت کے تحت ایک قاضی صاحب، دو گواہوں اور مقررہ مہر معجل کے ساتھ خفیہ طور پر نکاح کیا گیا۔ خلوتِ صحیحہ بھی ہوچکی ہے۔ اب جب نکاح کو والدین کے سامنے لانے کا وقت آیا تو میرے والدین کے انکار کا اندیشہ ہے، حالانکہ لڑکی کے والدین کو کوئی اعتراض نہیں، وہ دیندار شوہر سے نکاح پر راضی ہیں۔ لیکن میرے والدین ہمارے علاقے میں بہت باعزت، تعلیم یافتہ اور دیندار ہیں۔ غالب گمان ہے کہ وہ اس نکاح کو قبول نہ کریں گے۔ لڑکی بار بار عاجز ہو کر درخواست کررہی ہے کہ میں اسے طلاق نہ دوں۔ میرا بھی دل گھبرا رہا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ طلاق دوں۔ مجھے اس لڑکی پر ترس آرہا ہے۔ مگر والدین کے ذہنی دباؤ کی وجہ سے میں سخت پریشانی میں ہوں۔اب میں اس شش و پنج میں ہوں کہ اگر والدین کی بات رد کرکے طلاق نہ دوں تو کہیں جنت سے محروم نہ ہوجاؤں اور دوسری طرف مجھے یہ ڈر بھی ہے کہ اگر میں بیوی کو صرف والدین کے کہنے پر بغیر کسی معقول وجہ کے طلاق دوں تو قیامت کے دن وہ مجھ سے سوال کرے گی کہ میں نے اسے استعمال کرکے اُسکے عزت کے ساتھ کیوں کھلواڑ کیا اور طلاق دے کرکیوں چھوڑا ، جبکہ اس نے میری جان بچانے کے لیے اپنی عزت اور گھر والوں کو چھوڑ دیا تھا اور بار بار مجھے درخواست بھی کرتی رہی کہ میں اسے طلاق نہ دوں۔
اب میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا والدین کی ناراضگی کے خوف سے طلاق دینا جائز ہوگا جبکہ مجھے اس نکاح سے کوئی پریشانی نہیں ؟ یا میں صبر کروں، نکاح کو عام طور پر اعلان کروں اور اپنی بیوی کی عزت و حقوق برقرار رکھتے ہوئے والدین کو راضی کرنے کی کوشش کروں؟۔
اگر طلاق دوں تو ایسا لگتا ہے کہ میں بہت بڑا ظالم ہوں جیسے کسی لڑکی کی عزت کے ساتھ کھیلا اور پھر چھوڑ کر پهینک دیا۔ اور اگر نہ دو تو مجھے ڈر ہے کہ میں والدین کی نافرمانی کے گناہ میں اللہ کے پاس پکڑا جاؤں۔ برائے کرم بتائے کیا میرے لیے اس حالت میں اپنے والدین کی بات پر انکے احترام میں طلاق دینا زیادہ بہتر عمل ہے یا پھر اس لڑکی کو نکاح میں رکھنا زیادہ بہتر ہے؟ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو بہترین جزائے خیر عطا فرمائے۔
تنقیح:
سائل سے مزید استفسار کرنے پر سائل نے بتایا کہ میرے والدین اس لیے منع کر رہے ہیں کیونکہ لڑکی علاقائی زبان نہیں جانتی،لڑکی کی زبان اردو ہےجبکہ ہمارے والدین اردو سمجھتے بھی ہیں اور بول بھی سکتے ہیں نیز علاقے کے لوگ بھی عموما اردو سمجھتے ہیں اگرچہ بول نہیں سکتے۔اس لسانی فرق کو لے کر والدین کہہ رہے ہیں کہ میں بیوی کو طلاق دوں۔
سائل نے مزید بتایا کہ میرے لیے شادی نبھانے میں والدین کی نافرمانی اور ان کے ناراضگی کے خوف کے علاوہ اور کوئی شرعی، معاشرتی یا عملی مانع نہیں ہے اور نہ ہی میرا اس نکاح میں کوئی جگھڑا یا اختلاف ہے۔
بس مجھے صرف اس بات کا ڈر ہے کہ بیوی کو طلاق نہ دے کر میں والدین کی نافرمانی کا مرتکب ہوکر زیادہ گناہ گار ہوں گا یا طلاق دے کر عورت بےچاری کو جو بےجا تکلیف دوں اس کی وجہ سے زیادہ گناہ گار ہوں گا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ والدین کو سمجھائیں کہ طلاق اللہ تعالی جل جلالہ کے ہاں ناپسندیدہ عمل ہےاور ان کو راضی کرنے کی کوشش کرلیں۔اگر وہ پھر بھی اصرار کریں تو صورت مسؤلہ میں آپ کا والدین کی ناراضگی کی خوف کی وجہ سے بیوی کو طلاق دینا جائز نہیں ہے۔نیز آپ اگر والدین کی بات کو رد کرکے بیوی کو طلاق نہ دیں تو گناہ گار نہیں ہوں گے۔
نیز لڑکی نے مشکل وقت میں آپ کی مدد کی، اب اس کا صلہ اس کو طلاق دے کر دینا انتہائی درجے کی بےمروتی ہے۔ اس نے قربانی دی ہے تو آپ بھی اس کی وجہ سے کچھ تکلیف برداشت کریں ۔
حوالہ جات
سنن أبی داؤد رقم الحدیث:(2178)
أبغض الحلال إلی اللہ الطلاق، ما أحل اللہ شیأ أبغض إلیہ من الطلاق۔
مسند إمام أحمد رقم الحدیث:(20653)
لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ اللہ ۔
قال صاحب السسن الدریہ فی شرح ھذا الحدیث :
من أصول الشریعۃ الإسلامیۃ:أنہ لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق، ویدخل تحت ھذا الأصل کل من أمر بطاعۃ أحد، فالإبن علیہ طاعۃ والدیہ لکن فی غیر معصیۃ۔
زبیر احمد بن شیرجان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
07/06/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


