| 89129 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
السلام علیکم والد کے انتقال کے بعد کسی عذر کی وجہ سے میراث تقسیم نہیں ہو سکی۔ پھر والدہ کے انتقال سے پہلے بڑی بہن کا انتقال ہوگیا۔ اب سوال یہ ہے کہ والد کی میراث کی تقسیم کے وقت کیا بڑی بہن کے بچے اس کے حصے کے حق دار ہوں گے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے والد صاحب کے انتقال کے وقت جو ورثہ حیات تھے وہ سب میراث کے مستحق ہیں۔ تقسیم میراث سے پہلے فوت ہونے سے ان کا حق ساقط نہیں ہوتا۔ اس لیے آپ کی بڑی بہن کے شرعی ورثہ ان کے والد صاحب سے ملنے والے شرعی حصے کے حقدار ہیں۔
حوالہ جات
الفتاوی البزازیۃ (2/596):
هو أن يصحح فريضة الميت الأول على ورثته ويحفظ من ذلك ما أصاب الميت الثاني لطلب الوقف ثم يصحح فريضة الميت الثاني على رؤوسهمثم يطلب الوفق ما بين يديه.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 801):
مات بعض الورثة قبل القسمة للتركة صححت المسألة الأولى أعطيت سهام كل وارث ثم الثانية.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (6/ 470):
بيانه إذا مات وترك بنين وبنات ثم مات أحد البنين أو إحدى البنات ولا وارث له سوى الإخوة والأخوات قسمت التركة بين الباقين على صفة واحدة للذكر مثل حظ الأنثيين فيكتفي بقسمة واحدة بينهم وأما إذا كان في ورثة الميت الثاني من لم يكن وارثا للميت الأول فإنه تقسم تركة الميت الأول، أولا ليتبين نصيب الثاني ثم تقسم تركة الميت الثاني بين ورثته.
اسفندیار خان بن عابد الرحمان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
06/جمادی الآخرۃ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسفندیار خان بن عابد الرحمان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


