| 89141 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
اگر شوہر بیوی کو کچھ تصاویر بنوانے کا کہے، اور بیوی کہے: ’میں نے تصاویر نہیں بنوانی‘، تو شوہر غصے میں کہے: ’اگر تصاویر نہیں بنوانی تو طلاق ہے‘؛ اور اس کے بعد بیوی چپ رہی، کچھ نہ کہاتو کیا نکاح باقی رہے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں:
۱۔ اگر شوہر فوری طور پر تصویریں بنوانے کا کہہ رہا تھا، تو پھر بیوی نے اسی وقت تصویریں بنوا لیں تو طلاق واقع نہیں ہوگی؛ اور اگر اسی وقت تصویریں نہیں بنوائیں، تو ایک طلاقِ رجعی واقع ہوجائے گی۔
۲۔ اور اگر شوہر مطلقاً (عمومی طور پر) تصویریں بنوانے کا کہہ رہا تھا، تو اس صورت میں بیوی نے زندگی میں کسی بھی وقت تصویریں بنوالیں تو تعلیق ختم ہوجائے گی اور طلاق واقع نہیں ہوگی۔ لیکن اگر بیوی نے تصویریں نہ بنوائیں، تو یہ شرط اس کی موت تک برقرار رہے گی؛ اور اگر وہ اس حالت میں فوت ہوگئی کہ اس نے تصویریں نہیں بنوائیں تھیں، تو موت سے کچھ پہلے طلاق واقع ہوجائے گی۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 763):
وفي طلاق الأشباه إن للتراخي إلا بقرينة الفور ومنه طلب جماعها فأبت فقال: إن لم تدخلي معي البيت فدخلت بعد سكون شهوته حنث. وفي البحر عن المحيط طول التشاجر لا يقطع الفور.
)مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر:(1/394
(ولو قال إن لم أطلقك فأنت طالق لا يقع) الطلاق (ما لم يمت أحدهما) قبل أن تطلق فيقع قبيل الموت؛ لأن الشرط حينئذ يتحقق فإن مات، أو ماتت قبل الدخول فلا ميراث وإن دخل فلها الميراث بحكم الفرار ولا ميراث له منها.
)بدائع الصنائع : (3/122
لأن هذا تمليك الطلاق فيتقيد بالمجلس بخلاف ما إذا قال لها أنت طالق إن دخل فلان الدار أنه يقع الطلاق إذا وجد الشرط في أي وقت وجد ولا يتقيد بالمجلس؛ لأن ذلك تعليق الطلاق بالشرط، والتعليق لا يتقيد بالمجلس؛ لأن معناه إيقاع الطلاق في زمان ما بعد الشرط فيقف الوقوع على وقت وجود الشرط ففي أي وقت وجد يقع الله عز وجل أعلم.
)بدائع الصنائع :(3/180
أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت.
حنبل اکرم
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
7/جمادی الثانیہ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


