| 89131 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
السلام عليكم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر میں فلان عورت کی کال کو جواب دوں تو تجھے 130 طلاق تو اب اس عورت نے نمبر تبدیل کرکے اس کو فون کیا اس نے کال جواب دیا (اٹھایا) تو کیا اس کی بیوی کو طلاق ہوگی یا نہیں برای مہربانی مفصل اور مدلل جواب عنایت فرمائیں جزاکم اللہ خیرا محمد آصف. بلوچستان
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کوئی شخص طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے اور وہ شرط پائی جائے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں زید نے طلاق کو کسی خاص عورت کی کال کا جواب دینے پر معلق کیا تھا۔ پھر جب اسی عورت نے غیر معروف نمبر استعمال کر کے کال کی اور زید نے وہ کال اُٹھاتے ہی عورت کو پہچان کر فوراً کال بند کر دی، تو شرط پوری نہ ہونے کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔البتہ اگر اسی عورت نے غیر معروف نمبر سے کال کی اور زید نے کال اُٹھا کر اُس سے بات بھی کر لی، تو شرط پوری ہو گئی اور زید کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو گئیں۔
حوالہ جات
القرآن المجید (البقرة: 229)
قال الله تعالى: ٱلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمسَاكُۢ بِمَعرُوفٍ أَو تَسرِيحُۢ بِإِحسَٰنٖۗ
القرآن المجید (البقرة: 230)
وقال تعالى: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوجًا غَيرَهُۥۗ
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية :(420/1)
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.
الاختيار لتعليل المختار (3/ 140):
(فإن وجد الشرط في ملك انحلت) اليمين (ووقع الطلاق)
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 257):
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل .بها ثم يطلقها أو يموت عنه
مجیب الرحمان بن محمد لائق
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
ھ07/06/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مجیب الرحمٰن بن محمد لائق | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


