03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رضاعی بھتیجی حرام ہے
89127رضاعت کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

 تنقیح شدہ سوال:

 زید نے ایک لڑکی سے منگنی کی۔ چند دن بعد زید کی والدہ نےمحض احتمال اور شبہات کی بنا پر بتایا کہ شاید اس لڑکی کے والد اور خود زید کو بچپن میں اس لڑکی کی دادی نے دودھ پلایا ہوگا۔ اس اطلاع کی وجہ سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ زید اور لڑکی کے والد رضاعی بھائی بن سکتے ہیں، اور اس صورت میں وہ لڑکی زید کے لیے رضاعی بھتیجی قرار پائے گی، جس سے نکاح حرام ہو جاتا ہے۔

       بعد ازاں زید نے اس لڑکی کی دادی (جسے دودھ پلانے والی سمجھا جا رہا تھا) سے براہ راست پوچھا کہ کیا آپ نے مجھے دودھ پلایا تھا؟ اس نے واضح طور پر انکار کیا اور کہا کہ میں قسم کھا کر بھی کہہ سکتی ہوں کہ میں نے آپ کو دودھ نہیں پلایا۔ میں نے کوشش ضرور کی تھی، لیکن آپ نے منہ نہیں لگایا، آپ روتے رہے، آخر کار آپ کو شربت پلایا گیا۔

       اب سوال یہ ہے کہ جب دادی (مزعومہ مرضعہ) خود صراحت کے ساتھ انکار کر رہی ہے، تو کیا زید کے لیے اس لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے؟ اور اگر بالفرض یہ عورت غلط بیانی کر رہی ہو یا اسے حقیقت یاد نہ ہو تو کیا اس کا نکاح یا اس سے پیدا ہونے والی اولاد کے نسب پر کوئی شرعی اثر پڑے گا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

دودھ شریک بھائی کی بیٹی سے نکاح شرعاً حرام ہے۔ البتہ صورت مسئولہ میں چونکہ رضاعت کا کوئی معتبر دعویٰ موجود نہیں، اورمزعومہ مرضعہ (دادی) نے واضح طور پر (حلفاً بھی )دودھ پلانے سےانکار کیا ہے، لہذا زید کے لیے اس لڑکی سے نکاح شرعا جائز ہے۔

حوالہ جات

   البناية شرح الهداية (4/ 101)

   "والأصل أن اليقين لا يزول بالشك..."

   صحيح مسلم (2/ 1073)

  "أن أم حبيبة زوج النبي صلى الله عليه وسلم حدثتها... قالت: فقلت: يا رسول الله، فإنا نتحدث أنك تريد أن تنكح درة بنت أبي سلمة، قال: «بنت أبي سلمة؟» قالت: نعم، قال: رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو أنها لم تكن ربيبتي في حجري ما حلت لي، إنها ابنة أخي من الرضاعة، أرضعتني وأبا سلمة ثويبة فلا تعرضن علي بناتكن ولا أخواتكن».

  المبسوط للسرخسي (5/ 133)

 "...وكذلك بنات الأخ من الرضاع كبنات لأخ من النسب، ...فقال علي - رضي الله تعالى عنه - يا رسول الله إنك ترغب في قريش وترغب عنا، فقال: هل فيكم شيء.؟ قال: نعم ابنة حمزة - رضي الله تعالى عنه -، فقال - صلى الله عليه وسلم -: إنها ابنة أخي من الرضاعة».

  أحسن الفتوی : (87/5)

  "...رضاعی بھائی کی لڑکی حرام ہے

 محمد شاہ جلال

دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

07/جماد الاخری /1447ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب