03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کان یا ناک میں دودھ سے رضاعت کا ثبوت
89136رضاعت کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

      کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مدت رضاعت(18 مہینے کی عمر)  میں کوئی عورت کسی بچے کی کان ناک میں بطور دوا اپنا دودھ ڈالے جبکہ امکان یہی ہے کہ بچے کی معدے تک پہنچ ہی جائیگا اب اس بچے کی رضاعت کا کیا حکم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ناک  کے ذریعے دودھ ڈالنےسے رضاعت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ ناک میں  ڈالا گیا دودھ حلق کے راستے سے جوف (معدہ ) تک پہنچ جاتا ہےاور شرعاً رضاعت کے ثبوت کےلیےدودھ کا جوف تک پہنچنا شرط ہے۔البتہ  کان میں دودھ ڈالنے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ کان میں دودھ  ڈالنےسےوہ کان کے اندرونی حصوں تک جاتاہے  جوف تک نہیں  پہنچتا۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين :(3/ 209)

ولا ‌رضاع ‌إن ‌لم ‌يصل إلى الجوف وعكسا، إذ قد يوجد الرضاع ولا مص كما في الوجور والسعوط. ثم أجاب بأن المراد بالمص الوصول إلى الجوف من المنفذين، وخصه لأنه سبب للوصول فأطلق السبب وأراد المسبب.

  البحر الرائق شرح كنز الدقائق :(3/ 238)

قوله: هو مص الرضيع من ثدي الآدمية في وقت مخصوص) أي وصول اللبن من ثدي المرأة إلى جوف الصغير من فمه أو أنفه في مدة الرضاع الآتية.... وقيدنا بالفم، والأنف ليخرج ما إذا وصل بالإقطار في الأذن، والإحليل، والجائفة، والآمة.

رشيدخان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

07/جمادی الثانية /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب