| 89151 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میں کام پر گیا تو میری اہلیہ بچے کو لے کر اپنے والدین کے گھر چلی گئی، وہاں جاكر اس نے عدالت سے خلع کی ڈگری لے لی،میں نے عدالت کے سامنے بھی کہا کہ میں طلاق نہیں دینا چاہتا، ڈگری لینے کے بعد اس کے خالو نے مجھے کہا کہ اس پر دستخط کر دو، میں نے کہا، میں طلاق نہیں دینا چاہتا، اگر آپ نے دستخط کروانے ہیں تو میں ان شاء اللہ لکھ کر دستخظ کروں گا، جس سے طلاق واقع نہیں ہوگی، چنانچہ انہوں نے وکیل کے ذریعہ طلاق نامہ تیار کروایا اور مجھے دستخط کرنے پر مجبور کیا، میں نے تحریر کے شروع میں انشا ء اللہ لکھا اور اس کے فورا بعد نیچے دستخط کر دیے، جبکہ دستخط کرتے وقت میری طلاق دینے کی کوئی نیت نہیں تھی، میں نے اس طلاق نامہ کی کاپی مختلف دارالافتاؤں میں بھیج کر فتوی لیا تو انہوں نے کہا کہ مذکورہ صورت میں طلاق نہیں ہوئی، وہ فتاوی بھی ساتھ منسلک ہیں، سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورتِ حال میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال اگر واقعتاً آپ نے طلاق نامہ پر دستخظ کرنے سے پہلے ان شاء اللہ لکھا اور اس کے فوراً بعد بغیر طلاق کی نیت کے دستخط کیے تھے تو اس صورت میں مذکورہ طلاق نامہ پر محض دستخط کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا جب تک آپ اس کو زبانی یا تحریری طور پر طلاق یا خلع نہ دیں تو اس وقت تک اس کا آگے دوسری جگہ نکاح کرنا ہرگز جائز نہیں۔
حوالہ جات
فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 136) دار الفكر، بيروت:
"(قوله وإذا قال لامرأته: أنت طالق إن شاء الله إلخ) وكذا إذا قال: إن لم يشأ الله أو ما شاء الله أو فيما شاء الله أو إلا أن يشاء الله أو إن شاء الجن أو الحائط وكل من لم يوقف له على مشيئة لم يقع إذا كان متصلا فلا يفتقر إلى النية."
الفتاوى الهندية (1/ 454) دار الفكر، بيروت:
إذا قال لامرأته: أنت طالق إن شاء الله - تعالى - متصلا به لم يقع الطلاق............ ولو قال: أنت طالق إلا أن يشاء الله - تعالى - وإذا شاء الله فهو مثل إن شاء الله كذا في السراج الوهاج.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (4/ 39) دار الكتاب الإسلامي،بيروت:
"(قوله ولا في أنت طالق إن شاء الله متصلا، وإن ماتت قبل قوله إن شاء الله) أي لا يقع الطلاق لحديث رواه الترمذي، وحسنه مرفوعا «من حلف على يمين، وقال إن شاء الله لم يحنث»"
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
7/جمادی الاخری1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


