03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ذاتی ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے بالعوض رقم کی منتقلی کا حکم
89170اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

 ایزی پیسہ کے ذاتی  اکاؤنٹ سے کاروبار کرنا کیسا ہے؟ مثال کے طور پرمیرا پرسنل اکاؤنٹ ہے،اب کچھ بندے مجھےپیسےبھیجتےہیں،میرےپاس کیش ہوتاہےمیں انہیں کیش دے دیتاہوں،اور وہ پیسے میرے اکاؤنٹ میں پڑے رہتے ہیں، پھر بوقتِ ضرورت میں اسے استعمال کرتا ہوں، اب کیا میں ان کو ایک ہزار  کیش دینے پر 20 روپےلے سکتا ہوں یا نہیں؟جو کہ عام طور پر کسی دکان والےکے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے 1000 روپے نکلوانے پر 20روپے کٹوتی ہوتی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کوئی شخص اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے کسی کو رقم بھیجتا ہے تو وہ اس خدمت کے بدلے اتنا معاوضہ لے سکتا ہے جتنا عام طور پر کمپنیاں لیتی ہیں  ،  بشرطیکہ اس معاملے میں کوئی  دھوکہ یا غلط بیانی نہ ہو ۔

حوالہ جات

فقہ البیوع: لشيخ الإسلام محمد تقي العثماني حفظہ اللہ(2/715):

أن دائرة البرید تتقاضی عمولة من المرسل علی إجراء هذہ العملیة فالمدفوع إلی البرید أکثر مما یدفعہ البرید إلی المرسل إلیہ فکان فی معنی الربا ولهذالسبب أفتی بعض الفقهاء فی الماضی القریب بعدم جواز إرسال النقود بهذالطریق ولکن أفتی کثیر من العلماء المعاصرین بجوازهاعلی أساس أن العمولة التی یتقاضاهاالبرید عمولة مقابل الأعمال الإداریةمن دفع الاستمارة وتسجیل المبالغ وإرسال الاستمارة أوالبرقیة وغیرهاإلی مکتب البرید فی ید المرسل إلیہ وعلی هذ الأساس جوّز الإمام أشرف علی التهانوی رحمہ اللہ-إرسال المبالغ عن طریق الحوالة البریدیة. وعلى هذا مشى العلماء المعاصرون، مثل فضيلة الدكتور الشيخ وهبة الزحيلي.

والعادة أن عمولة الإرسال تكون مرتبطة بنسبة مئوية من المبلغ. وقد يجعل مكتب البريد شرائح لهذه العمولة، فمثلا: هناك مبلغ مقطوع لإرسال مبلغ أقل من ألف، ومبلغ مقطوع أزيد منه لإرسال ما يبلغ ألفاإلى خمسة الآف، وهكذا، وقد جرى عليه العمل في سائر البلدان من غير نكير، وليس هناك ما يبرر هذا الربط بين المبلغ والعمولة إلا ما ذكره ابن عابدين رحمه الله تعالى في أجرة كتابة الصك حيث جاء في الدرالمختار:يستحق القاضي الأجر على كتب الوثائق والمحاضر والسجلات قدر مايجوز لغيره كالمفتي، فإنه يستحق أجر المثل على كتابة الفتوى، لأن الواجب عليه الجواب باللسان دون الكتابة بالبنان، ومع هذاالكف أولى.

   محمد طلحہ فلک شیر

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

10/جمادی الثانیۃ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طلحہ ولد فلک شیر

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب