| 89272 | متفرق مسائل | متفرق مسائل |
سوال
کچھ افسران موٹروے پولیس میں ایسے بھی ہیں جو اوورلوڈ گاڑیوں کو چالان نہیں کرتے، بلکہ ان سے دو ہزار روپے لے کر چھوڑ دیتے ہیں، حالانکہ اوورلوڈنگ کا اصل اور قانونی چالان پانچ ہزار روپے ہے۔ جب ڈرائیور کو پانچ ہزار روپے کا باقاعدہ چالان دیا جاتا ہے، جو کہ حکومت کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتا ہے، تو وہ ڈرائیورافسران، ڈیپارٹمنٹ اور حکومت کو بہت گالیاں دیتے ہیں۔لیکن جب بعض افسران دو ہزار روپے لے کر گاڑی چھوڑ دیتے ہیں تو ڈرائیور بہت خوش ہوتے ہیں اور دعائیں دیتے ہیں۔
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ حکومت نہ تو سڑکیں ٹھیک بناتی ہے اور نہ سہولیات فراہم کرتی ہے، اس لیے بہتر ہے کہ افسران دو ہزار روپے لے کر چھوڑ دیں۔افسران جو دو ہزار روپے لیتے ہیں، وہ دراصل پانچ ہزار روپے کا قانونی چالان نہیں کرتے، بلکہ یہ رقم اپنی جیب میں رکھ لیتے ہیں، جسے رشوت کہا جاتا ہے۔ ڈرائیور بھی اس پر خوش ہوتے ہیں، کیونکہ وہ اصل چالان سے بچ جاتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ چونکہ قانون کے مطابق تو چالان پانچ ہزار روپے ہے،تو جو افسران دو ہزار روپے لے رہے ہیں، وہ صحیح کر رہے ہیں یا غلط؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
رشوت لینا اور دینا حرام ہے۔ جس جرم کا چالان جتنا بنتا ہے اتنا ہی ادا کرنا چاہیے۔رشوت دے کر اس سے بچنا شرعا ناجائز و حرام ہے۔حکومت کا سڑکیں نہ بنانا ان کی نا اہلی ہے،لیکن اس کی وجہ سے رشوت دے کر چالان سے بچناجائز نہیں۔
حوالہ جات
سورۃ البقرۃ : (188)
"وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ ...".
سورۃ النساء : (59)
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ".
مصنف ابن أبي شيبة (عوامة) (11/ 303)
عن ثوبان ، قال : "لعن النبي صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي والرائش ، يعني الذي يمشي بينهما".
صحيح البخاري ط- أخرى (18/ 52)
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :"اسمعوا وأطيعوا وإن استعمل عليكم عبد حبشي كأن رأسه زبيبة".
محمد شاہ جلال
دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
11/ جماد الاخری/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


