| 89219 | نکاح کا بیان | محرمات کا بیان |
سوال
میری بہن بالغ ہے، اس نے والدین کی اجازت کے بغیر گھر سے بھاگ کر شادی کی ہے اور نکاح اپنے خالو (یعنی ہماری خالہ کے شوہر) سے کیا ہے۔ نکاح کے وقت نہ تو ہمارے والدین موجود تھے اور نہ ہی ہماری خالہ، ہمیں اور ہماری خالہ کو کچھ وقت بعد اس بات کا علم ہوا کہ میری بہن نے خالو کے ساتھ نکاح کر لیا ہے،ہم شرعی طور پر درج ذیل امور کے بارے میں راہنمائی چاہتے ہیں:
- کیا خالو کے ساتھ کیا گیا نکاح شرعاً درست ہے؟
- اگر یہ نکاح درست نہیں تو میری بہن کا شرعی حکم کیا ہوگا؟
- کیا دونوں پر توبہ لازم ہے؟
- کیا میری بہن آئندہ شرعی طور پر دوبارہ جائز نکاح کر سکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ خالہ اور بھانجی دونوں کو بیک وقت نکاح میں رکھنا حرام ہے،اس لئے آپ کی بہن کا خالو کے ساتھ کیاگیا نکاح فاسد ہے،خالو پر لازم ہے کہ آپ کی بہن کو چھوڑدے،یعنی زبانی طور پر ایسے الفاظ کہہ دے جو آپ کی بہن سے تعلق کے ختم ہونے پر دلالت کریں،جیسے:میں نے اسے چھوڑدیا ہے وغیرہ،اگر وہ ایسا نہ کرے تو آپ کی بہن کی جانب سے ایسے الفا ظ کہہ دینا بھی کافی ہوجائے گا اور اب تک ساتھ رہنے پر ندامت کے ساتھ سچے دل سے کثرت سے توبہ واستغفار کریں۔
پھر اگر ابھی تک صرف نکاح ہی ہوا ہو ،دونوں کے درمیان ازدواجی تعلق قائم نہیں ہوا تو مہر اور عدت وغیرہ کچھ بھی لازم نہیں،لیکن اگر دونوں کے درمیان ازدواجی تعلق بھی قائم ہوچکا ہو تو پھر آپ کی بہن پر عدت لازم ہے اور خالو پر مہر مثل اور نکاح کے دوران طے شدہ مہر میں سے جو کم ہو ،اس کی ادائیگی لازم ہے اور جب تک آپ کی بہن کی عدت نہ گزرجائے آپ کے خالو کے لئے اپنی پہلی بیوی سے قربت اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔
حائضہ)جس عورت کو ماہواری آتی ہو) عورت کی عدت تین ماہواریاں ہیں اور جس عورت کو حیض)ماہواری) نہیں آتا اس کی عدت تین مہینے ہیں،جبکہ حاملہ عورت کی عدت ولادت تک ہوتی ہے،عدت گزرنے کے بعد آپ کی بہن کسی اور سے نکاح کرسکے گی۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (3/ 38):
(و) حرم (الجمع) بين المحارم (نكاحا) أي عقدا صحيحا (وعدة ولو من طلاق بائن، و) حرم الجمع (وطء بملك يمين بين امرأتين أيتهما فرضت ذكرا لم تحل للأخرى) أبدا لحديث مسلم «لا تنكح المرأة على عمتها» وهو مشهور يصلح مخصصا للكتاب.
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله: «لا تنكح المرأة على عمتها» ) تمامه «ولا على خالتها ولا ابنة أخيها ولا على ابنة أختها» (قوله: وهو مشهور) فإنه ثابت في صحيحي مسلم وابن حبان، ورواه أبو داود والترمذي والنسائي، وتلقاه الصدر الأول بالقبول من الصحابة والتابعين ورواه الجم الغفير منهم أبو هريرة وجابر وابن عباس وابن عمر وابن مسعود وأبو سعيد الخدري".
"الفتاوى الهندية "(1/ 277):
"وإن تزوجهما(الاختين) في عقدتين فنكاح الأخيرة فاسد ويجب عليه أن يفارقها ولو علم القاضي بذلك يفرق بينهما فإن فارقها قبل الدخول؛ لا يثبت شيء من الأحكام وإن فارقها بعد الدخول فلها المهر ويجب الأقل من المسمى ومن مهر المثل، وعليها العدة ويثبت النسب ويعتزل عن امرأته حتى تنقضي عدة أختها، كذا في محيط السرخسي.....
وكل هذه الأحكام المذكورة بين الأختين ثابتة بين كل من لا يجوز جمعه من المحارم، كذا في فتح القدير".
"البحر الرائق " (4/ 151):
"(قوله :والمنكوحة نكاحا فاسدا والموطوءة بشبهة وأم الولد الحيض للموت وغيره) أي: عدة هؤلاء ثلاث حيض في الحرة التي تحيض وحيضتان في الأمة ووضع الحمل إن كانت حاملا والأشهر إن كانت آيسة وتركه لظهوره وفهمه مما قدمه".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
11/جمادی الثانیہ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


