| 89262 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ایک مسئلے کے حوالے رہنمائی درکار ہے ۔میری بہن کے شوہر،جو کہ آئس کا نشہ کرتا تھا، نے تقریباً ایک سال قبل تحریری صورت میں طلاق لکھ کر ہمارے گھر کے دروازے کے نیچے ڈال دیا،اتفاقا تحریر میرے ہاتھ لگی۔ میں نے معاملے کو غلط فہمی یا شرارت سمجھتے ہوئے کسی کو اطلاع نہیں دی اور تحریر جیب میں رکھ لی۔اس واقعے کے تقریباً 12 دن بعد ہماری گھر میں شادی کا فنکشن تھا۔ اسی دن وہ شخص ہمارے گھر آیا، دروازے پر کھڑے ہو کر شور مچایا اور بلند آواز میں کہاکہ :میں نے تمہاری بیٹی کو طلاق دے دی ہے، اس کا سامان لے جاؤ۔ساتھ ہی انتہائی ناروا اور نازبیا گالیاں بھی دیتا رہا۔اس کے بعد اگلے فنکشن پر بھی وہ دوسرے رشتے داروں اور برادری کے افراد کے سامنے یہی بات دہراتا رہا کہ:میں نے فلاں کی بیٹی کو طلاق دی ہے، تم بھی ادھر شادیاں کرنا چھوڑ دو۔اس کے بعد ولیمہ والے دن دوبارہ مختلف رشتہ دار اور ہمارے دوستوں کے سامنے یہ بات دہراتا رہا۔یہ بات میرے کچھ دوستوں نے بھی اس سے براہ راست سنی تھی۔اس پورے معاملے کے دوران ہم نے صبر سے کام لیا اور کسی کے ساتھ کوئی بحث یا جھگڑا نہیں کیا ۔بعد ازاں متعدد مدارس اور کئی علمائے کرام سےدریافت کرنے پر سب نے یہی جواب دیا کہ طلاق واقع ہوچکی ہے۔اس بات کو گزرے ہوئے ایک سال کا عرصہ ہوچکا ہے ۔اس کے گھر والوں نے اس کا علاج کروایا،جس کے نتیجےمیں کچھ بہتری آچکی ہے۔اب وہ کہتا ہے کہ:میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتا ہوں کہ میں نے طلاق نہیں دی ،مجھےمیری بیوی اور بچے واپس کردو۔اس کے گھر والے بھی اس کا ساتھ دے رہے ہیں ۔اور یہ کہتے ہیں کہ:ہمارے بیٹے نے طلاق نہیں دی۔اور ہم پر مختلف طریقوں سے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
تنقیح : سائل سے استفسار کرنے پر معلوم ہوا،کہ اس بندے نے تحریری طور پر 12 بار طلاق دینے کا ذکر کیا اور تین دن تک اس کا ذکر کرتا رہا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیلات درست ہیں تو میاں بیوی کے مابین طلاق مغلظہ واقع ہوچکی ہے ۔
حوالہ جات
المحيط البرهاني275/3)):
ولو کتب الصحیح او الأخرس إلى امرأته كتابا فيها طلاقها وكان الكتاب مرسوما ثم جحد الكتاب وقامت عليه البينة أنه كتبه فرق بينهما قضاء،وأما ديانة فإن كان لم ينو به الطلاق فهي امرأته.
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (3/ 489):
وطلاق السكران واقع واختيار الكرخي والطحاوي أنه لا يقع، وهو أحد قولي الشافعي؛ لأن صحة القصد بالعقل وهو زائل العقل فصار كزواله بالبنج والدواء.ولنا أنه زال بسبب هو معصية فجعل باقيا حكما زجرا له.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 353):
وطلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ. وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط.
اسفندیارخان بن عابد الرحمان
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
15/جمادی الثانیۃ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسفندیار خان بن عابد الرحمان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


