03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حرم مکی یا مطاف میں موجود اشیاء اپنے ہوٹل لے جانا
89261وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

اس مسئلے کی بابت رہنمائی درکار ہے کہ: کیا حرم مکی میں انتظامیہ کی طرف سے معذوروں کے لیے مہیا کردہ وہیل چیئرز کو اپنے ہوٹل یا مکہ کے دیگر مقامات کی زیارتوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اس کے علاوہ، مطاف اور مسعی پر زمزم پینے کے لیے جو ٹنکیاں (یا کولر) نصب ہوتی ہیں، کیا وہاں سے زمزم کا پانی اپنی رہائش گاہ یا سفر میں استعمال کے لیے لے جانا جائز ہے؟   

تنقیح :حالا  حرم کی انتظامیہ کی  طرف سے  حرم کے اندر زمزم ذاتی استعمال میں لاسکتے ہیں لیکن اپنے ساتھ  ہوٹل یا کہی اور لے جانے پر پابندی ہے جبکہ وہیل  چئیر  پرائیوٹ طور پر کرایہ پر ملتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  حرم کی انتظامیہ کی طرف سے زمزم ساتھ لے جانے   کی اجازت  نہ ہونے کی وجہ سےبڑا کولر  وغیرہ بھرنے سے اجتناب ضروری ہے ۔  تاہم  صرف اپنے پینے  کے لیے بوتل بھرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے  ۔اور وہیل چئیر  ہوٹل لے جانے کا معاملہ متعلقہ ادارے کی اجازت پر موقوف ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (5/ 341):

ويكره رفع الجرة من السقاية وحملها إلى منزله؛ لأنه وضع للشرب لا للحمل، كذا في محيط السرخسي.وحمل ماء السقاية إلى أهله   إن كان مأذونا للحمل يجوز وإلا فلا كذا في الوجيز للكردري في المتفرقات.

الفتاوى البزازية)388(:

في يده أرض وماء للفقراء فضل الماء عن الأرض لايعطيه  لأحد   بل يرسله فى النهر ليصل   إلى الفقراء وليس للمتولي ان يفوض  إلى غيره.

فتاوی  قاضی خان (4/398):

متولی المسجد لیس لہ  أن یحمل  سراج المسجد الی بیته.  

اسفندیارخان بن عابد الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

15/جمادی   الآخرۃ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسفندیار خان بن عابد الرحمان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب