| 89276 | فیصلوں کے مسائل | ثالثی کے احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام میں نے ایک شخص سے ویزہ لیا اس ویزہ میں ہم سے فراڈ ہوگیا اب وہ شخص مجھے کہہ رہا ہے کہ آپ پوری رقم کے حقدار نہیں ۔تب ہم نے ایک جرگہ بٹھایا اس جرگہ نے 19ستمبر کو یہ فیصلہ کیا کہ مجھے آدھی رقم واپس کی جائے گی اور رقم واپسی کی ترتیب 3دن بعد تھی مگر وہ ویزہ والے ایجنٹ ٹال مٹول کرتے رہے اسکے بعد 23اکتوبر کو میں نے اس ایجنٹ سے رابطہ کیا اور میں نے کہا کہ مجھے جس وقت اس رقم کی ضرورت تھی آپ نے رقم واپس نہیں کی اب مجھے مزید نقصان ہوگیا ہے۔اور آپ جرگہ کے فیصلے پر پورے نہیں اترے لہذا آپ مجھے پانچ لاکھ کی رقم واپس کریں باقی رقم میں معاف کردونگا جس پر اس ایجنٹ نے حامی بھر دی اور کہا ٹھیک ہے آپ اس جرگہ کے فیصلے کے مطابق تین لاکھ بیس ہزار کی رقم لیں اور معاہدہ کرلیں ۔باقی جو ایک لاکھ 80ہزار کی رقم ہے وہ ہم آپس میں بیٹھ کر معاہدہ بھی کرلینگے اور رقم کی واپسی کی ترتیب بھی ۔میں نے حامی بھر لی ۔اسکے بعد ایجنٹ نے دو لاکھ کی رقم 26 اکتوبر کو دی اور ایک بیس کا ٹائم رکھا یکم نومبر اور معاہدہ کیا کہ آپ اس مسئلہ کو نا سوشل میڈیا پر زیرِ بحث لائینگے اور ناہی کسی سے بلمشافہ تذکرہ کرینگے ۔چنانچہ میں نےیکم نومبر کی یقین دہانی پر معاہدہ کرلیا مگر پھر وہی پرانی عادت کہ ایک بیس آج دینگے کل دے دینگے اس طرح ٹال مٹول کرتے کرتے وہ بقیہ رقم 10نومبر کو دیکر ایجنٹ نے خود معاہدہ کی پاسداری نہیں کی اور معاہدہ کو سبوتاژ کیا ۔اور اسکے ساتھ ساتھ وہ بقیہ ایک لاکھ 80ہزار کی رقم جسکا ایجنٹ نے کہا تھا کہ ہم آپس میں بیٹھ کر معاہدہ اوررقم واپسی کی حتمی ایام بھی متعین کرلینگے اس بات سے بھی ایجنٹ منحرف ہوگئے ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا میں اس پہلے والے معاہدہ کا پابند ہو جس کو ایجنٹ نے خود سبوتاژ کیا اور اپنی کہی بات سے پھر گئے یا میں پابند نہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگرچہ ایجنٹ نے زبانی طور پر اس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ ایک لاکھ اسی ہزار کی رقم کے لیے آئندہ باقاعدہ معاہدہ کر لینگے ، لیکن چونکہ وہ معاہدہ عملاً طے نہیں پایا اور نہ ہی کسی واضح شرائط و مدت کے ساتھ تحریری شکل میں وجود میں آیا، لہٰذا شریعت کی رو سےیہ "مکمل معاہدہ" نہیں ہوا۔پس جب کوئی دوسرا معاہدہ معتبر شکل میں نافذ ہی نہیں ہوا تو اب پہلا معاہدہ (یعنی جرگہ کا فیصلہ) ہی اصل سمجھا جائے گا، جس کے تحت آپ کو آدھی رقم کی وصولی کا حق حاصل ہے اور اگر ابھی اس معاہدہ کی بقیہ رقم (جیسے ایک لاکھ بیس ہزار روپے) باقی ہو ، تو آپ اس کا شرعی طور پر مطالبہ کر سکتے ہیں۔
حوالہ جات
يَٰٓأَیُّهَا ٱلذِينَ ءَامَنُواْاَوفُواْ بِالعُقُودِ(المائدة: 1)
وَأَوفُواْ بالعهد ان العهد كان مسئـولا [الإسراء: 34]
(أخرجه أبو داود:3594 )
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :
الصلح جائز بين المسلمينَ إِلَّا صلحا أحلَّ حرامًا ، أو حرم حلالا . وقالَ رسول الله صلَّى وسلم : المسلمون على شروطهم .
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 108):
وإذا حكم رجلان رجلا فحكم بينهما ورضيا بحكمه جاز" لأن لهما ولاية على أنفسهما فصح تحكيمهما وينفذ حكمه عليهما، وهذا إذا كان المحكم بصفة الحاكم لأنه بمنزلة القاضي فيما بينهما فيشترط أهلية القضاء، ولا يجوز تحكيم الكافر والعبد والذمي والمحدود في القذف والفاسق والصبي لانعدام أهلية القضاء اعتبارا بأهلية الشهادة والفاسق إذا حكم يجب أن يجوز عندنا كما مر في المولى ولكل واحد من المحكمين أن يرجع ما لم يحكم عليهما" لأنه مقلد من جهتهما فلا يحكم إلا برضاهما جميعا "وإذا حكم لزمهما" لصدور حكمه عن ولاية عليهما "وإذا رفع حكمه إلى القاضي فوافق مذهبه أمضاه" لأنه لا فائدة في نقضه ثم في إبرامه على ذلك الوجه "وإن خالفه أبطله" لأن حكمه لا يلزمه لعدم التحكيم منه.
وفى الهندية باب التحكيم ( ۳/۳۷۵) :
حكما رجلا فقضى لاحدهما ثم حكما آخر ينفذ حكم الاول ان كان جائزا عنده وان كان جورا ابطله .
عادل ارشاد
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۵/جمادی الاخری/۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


