03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کھیت کی خرید وفروخت میں زائدتنےاور لکڑی کامالک کون ہوگا
89290خرید و فروخت کے احکامزمین،باغات،کھیتی اور پھلوں کے احکام و مسائل

سوال

ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ بکر ( بائع)نے اپنی ٹماٹر کی فصل زید ( مشتری) کوفروخت کی پھر زید ( مشتری)نے ٹماٹر کی فصل کی کٹائی کی اس کے بعد جو تنا ، لکڑی وغیرہ رہ گیا یہ کس کا حق بنتا ہے ؟ البتہ اس میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہاں جو عرف ہے وہ لکڑی تنا وغیرہ سب بائع ( مالک زمین) کا حق سمجھا جاتا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ   میں زید ( مشتری )نے اگر معاملہ کےوقت لکڑی  یاتنے وغیرہ کی شرط اپنےلیے نہ لگائی ہو،تو تنااور لکڑی بائع کا ہوگا ۔جب اس علاقےمیں عرف بھی یہی ہے کہ تنا،لکڑی بائع کا حق  سمجھاجاتاہے تو بطریق اولی بائع کا حق قرار دیاجائےگا۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي: (3/ 26)

ومن باع نخلا أو شجرا فيه ثمر فثمرته للبائع إلا أن يشترط المبتاع" لقوله عليه الصلاةوالسلام: "من اشترى أرضا فيها نخل فالثمرة للبائع، إلا أن يشترط المبتاع".

المبسوطللسرخسي :(23/ 60)

والثالث: أن يشترطا المناصفة في الحب، ولم يتعرضا للتبن بشيء، فهذا مزارعة صحيحة والحب بينهما نصفان لاشتراطهما الشركة فيما هو المقصود والتبن لصاحب البذر منهما؛ لأن استحقاقه ليس بالشرط، وإنما استحقاق الأجر بالشرط فإنما يستحقالأجر بالشرط، والمسكوت عنه يكون لصاحب البذروبعض أئمة بلخ رحمهم الله قالوا: في هذا الفصل التبن بينهما نصفان أيضا؛ لأن فيما لم يتعرضا له يعتبر العرف.

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي: (6/ 282)

وفي فتاوى قاضي خان: ولو باع أرضا، وفيها أشجار صغار تحول في فصل الربيع وتباع، إن كانت تقلع من أصلها تدخل في البيع، وإن كانت تقطع من وجه الأرض فهي للبائع إلا بشرط.

     رشیدخان

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

   12/جمادی الاخرۃ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب