| 89239 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | ملازمت کے احکام |
سوال
میری نوکری ایک ایسی کمپنی میں ہے جو گاہکوں کو انشورنس کمپنیاں (دونوں طرح کی: عام انشورنس اور تکافل) سے ملا تی ہے۔ کمپنی کا طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی گاہک انشورنس پالیسی خریدتا ہے تو ہماری کمپنی انشورنس کمپنی سے کمیشن لیتی ہے اور اسی کمیشن سے ہمیں تنخواہ دی جاتی ہے۔ میں بطور سافٹ ویئر انجینئر/ٹیم لیڈر کام کرتا ہوں۔ میرا کام یہ ہے کہ ہم ایسا سافٹ ویئر بناتے ہیں جس کے ذریعے گاہک آن لائن پالیسی خرید سکے۔ یہ سافٹ ویئر پھر وہ معلومات انشورنس کمپنی تک پہنچاتا ہےاور اس پر کمپنی کو کمیشن ملتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ: کیا میری اس نوکری سے حاصل ہونے والی تنخواہ حلال ہے یا حرام؟ اگر کمپنی صرف تکافل (اسلامی انشورنس) کے ساتھ کام کرے تو کیا یہ جائز ہوگا؟ اگر یہ نوکری حرام ہے تو ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئے اور اب تک کی کمائی کا کیا حکم ہے؟ براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
تنقیح:سائل سے رابطہ کرنےپر معلوم ہوا کہ وہ کمپنی کی طرف سے تجویز کردہ کسی بھی فیچرکو سافٹ ویئر میں شامل کرنے کے مکمل پابند ہوتے ہیں اور ان میں انشورنس کے فیچرز بھی شامل ہوتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
انشورنس کے معاملات چونکہ سود اور غرر پر مشتمل ہوتے ہیں اور ایسے سافٹ ویئر بنانا یا ان میں ایسے فیچرز شامل کرنا جن کے ذریعے کسٹمر انشورنس پالیسی خرید سکے، گناہ کے کام میں تعاون پائے جانے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔اگرچہ براہ راست سودی معاملے میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے آپ کے لیے اپنی محنت کی اجرت اورتنخواہ لینا حلال ہے،لیکن کمپنی کے ناجائز معاملات میں تعاون کی وجہ سےآپ کواس کا گناہ ہوگا۔
اگرموجودہ کمپنی میں صرف جائز کاموں تک اپنے آپ کو محدود رکھناممکن نہ ہوتوجائز نوکری تلاش کرنےتک اسےجاری رکھ سکتے ہیں،تاہم دل سےاستغفارکریں اورمتبادل کی پوری کوشش کرتےرہیں۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي :(16/ 38)
ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل وشيء من اللهو؛ لأنه معصية والاستئجار على المعاصي باطل فإن بعقد الإجارة يستحق تسليم المعقود عليه شرعا ولا يجوز أن يستحق على المرء فعل به يكون عاصيا شرعا۔
فتاوى قاضيخان :(2/ 169)
وإن استأجر لينحت له طنبوراً أو بريطاً ففعل طاب له الأجر إلا أنه يأثم به۔
فقہ البیوع:(2/3106)
فان المبیع مما یتمحض استخدامه فی عقد محرم شرعاً ، مثل برنامج الحاسوب الذی صمم للعملیات الربویة خاصة ، فان بیعه حرام للبنک و غیرہ ، و کذلک بیع الحاسوب بقصد ان یستخدم فی ضبط العملیات المحرمة او بتصریح ذلک فی العقد
وفیہ أیضا: (1/194)
وکذٰلک الحکم فی برمجۃ الحاسب الآلی (الکمبیوتر)لبنک ربوی، فإن قصد بذٰلک الإعانۃ، أو کان البرنامج مشتملا علی مالا یصلح إلا فی الأعمال الربویۃأوالأعمال المحرمۃ الأخری،فإن العقد حرام باطل.
فیصل حیات بن خان بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
16/06/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | فیصل حیات بن خان بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


