| 89234 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
ایک دن میرے اور میرے شوہر کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوگیا۔ بحث کے دوران جب شوہر نے مجھے مارنے کی کوشش کی تو میں نے کہا: “شریعت میں بیوی کو مارنے کی اجازت نہیں ہے، یہ غلط ہے۔” یہ سن کر وہ شدید غصے میں آ گئے۔ میں نے کہا کہ اگر بات سمجھ نہیں آ رہی تو آپ میرے والدین سے بات کرلیں، مگر مارنا جائز نہیں۔ اس پر شوہر نے کہا: “تو پھر طلاق دے سکتا ہوں، شریعت میں اجازت ہے۔” یہ ان کا معمول کا انداز ہے جب میں ان کی بات نہ مانوں تو وہ اکثر طلاق کی دھمکی دیتے ہیں تاکہ میں دباؤ میں آ جاؤں۔ میں نے جواب میں کہا کہ: ہاں یہ سن کر وہ اچانک جذباتی ہو گئے اور غصے میں بولے: “دے چکا ہوں، دے چکا ہوں، دے چکا ہوں” (تین بار ایک سانس میں) “چلی جاؤ یہاں سے ہاتھ مت لگانا "پھر اگلا جملہ یہ کہا تین بار کہہ دیا دے چکا ہوں طلاق ہو گئی ہے۔ میں نے بعد میں شوہر سے تین بار پوچھا کہ“کیا آپ نے واقعی طلاق دینے کی نیت سے یہ کہا تھا؟” تو انہوں نے صاف طور پر کہا: نہیں، میری نیت طلاق دینے کی ہرگز نہیں تھی۔ میں تو ذہنی طور پر طلاق کے لیے تیار ہی نہیں تھا۔ غصے میں حواس کھو بیٹھا اور وہ الفاظ منہ سے نکل گئے۔” لیکن سچ میں میری نیت نا تھی شدید غضےمیں نکل گیا انہوں نے مزید وضاحت “میری نظر میں طلاق تب ہوتی ہے جب میں واضح الفاظ میں تین بار کہوں: ‘میں طلاق دیتا ہوں’ جبکہ میں نے یہ الفاظ کہے ہی نہیں، صرف ‘دے چکا ہوں’ کہا۔”اور میری علم میں یہ بات تھی ہی نہیں کے دو سرے الفاظ سے بھی ہو تی ہے اور اس میں نیت دیکھی جاتی ہے میں تو یہی سمجھتا تھا کے طلاق بولیں گے تب ہی طلاق ہوتی ہے۔اور: طلاق ہو گئی‘ کا جملہ تو میں نے ڈرا نے اور دھمکانے کے لئے کہا تھا ، لیکن اصل میں میری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی۔” میری عاجزانہ گزارش ہے کہ ان تفصیلات کی روشنی میں ہمیں یہ بتایا جائے کہ: کیا اس صورت میں شرعی طور پر کوئی طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ جزاکم اللہ خیرا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیوی کے " ہاں" کے جواب میں شوہر کا تین مرتبہ یہ کہنا "دے چکا ہوں" سے طلاق ہی مراد ہے، پھر یہ جملہ کہنا"( تین بار کہہ دیا دے چکا ہوں طلاق واقع ہو گئی ہے)اس پر اضافی دلیل ہے۔ لہذا مذکورہ شخص نے اگر چہ اس سے قبل طلاق نہیں دی لیکن اس اقرار سے بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں ،جس کے بعد میاں بیوی کا ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں ، اب رجوع بھی نہیں ہو سکتا اور نہ ہی حلالہ کے بغیر دوبارہ با ہم عقد نکاح ہو سکتا ہے جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
حوالہ جات
" فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ [البقرة: 230]
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 296-297):
(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها)قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 236):
«ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. اهـ. ويأتي تمامه.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 314):
«والقرينة لا بد أن تتقدم كما يعلم مما مر في اعتدي ثلاثا فالأوجه ما في شرح الجامع.
عادل ارشاد
دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی
16/جمادی الاخری/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


