03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جن جانوروں کو تجارت کی نیت سے رکھا جائے ان(کے بچوں )میں زکوۃ کا حکم
89265زکوة کابیانجانوروں کی زکوة کابیان

سوال

میں نے دارلافتاء جامعۃالرشید کراچی سے  جانوروں کی زکوۃ کے حوالے سے سوال کیا تھا جس کا یہ جواب آیا تھا"مذکورہ جانور اگر سائمہ ہوں، یعنی سال کے اکثر حصے میں چر کر خود اپنا چارہ حاصل کریں، مالک ان پر خرچ نہ کرے،  ان کو پالنے کا مقصد افزائشِ نسل ہو، اور ان کی تعداد نصاب کو پہنچ جائےتو ان جانوروں اور ان کے بچوں دونوں میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔اگر مذکورہ جانور علوفہ ہوں، یعنی سال کا اکثر حصہ خود چر کر گھاس نہ کھائیں بلکہ مالک ان پر خرچ کرےتو  خریدتے وقت  اگرتجارت کی نیت ہواوران کی قیمت نصاب کو پہنچےتو ان   میں زکوٰۃ ہوگی۔ اگرخریدتے وقت  تجارت کی نیت نہ ہو تو ان میں زکوٰۃ نہیں ہوگی۔ لیکن جب بھی ان جانوروں کو بیچا جائے گا اور ان کی مالیت دوسرے اموال کے ساتھ ملا کر نصاب پورا ہوتا ہو تو اس سے زکوۃ دی جائے گی۔"

نیز یہ معلوم کرنا ہے کہ وہ جانور جو علوفہ ہوں اور جنہیں تجارت کی نیت سے نہ خریدا گیا ہو، لیکن ان کے بچوں میں تجارت کی نیت کی جائے، حالانکہ وہ بچے خریدے نہیں گئے، تو ان بچوں کا کیا حکم ہوگا؟ کیا ان میں زکوٰۃ واجب ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ  صورت   میں جانوروں کے بچوں  کو جب بھی  بیچا جائے گا اور زکوۃ کی تاریخ کوان کی مالیت دوسرے اموال کے ساتھ ملا کر نصاب پورا ہوتا ہو تو اس سے زکوۃ دی جائے گی۔اس کے علاوہ ان پر مستقل طور پر زکوۃ لازم نہیں۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 21):

وأما صفة هذا النصاب فهي أن يكون معدا للتجارة وهو أن يمسكها للتجارة وذلك بنية التجارة مقارنة لعمل التجارة لما ذكرنا فيما تقدم بخلاف الذهب والفضة فإنه لا يحتاج فيهما إلى نية التجارة؛ لأنها معدة للتجارة بأصل الخلقة.

المبسوط للسرخسي (2/ 170):

وعلماؤنا - رحمهم الله تعالى - قالوا: إن بنية التجارة ينعدم ما هو المقصود بالسوم وما لأجله أوجب زكاة السائمة.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 178):

فإن كانت للتجارة فحكمها حكم العروض يعتبر أن تبلغ قيمتها نصابا سواء كانت سائمة أو علوفة كذا في المضمرات.

النهر الفائق شرح كنز الدقائق (1/ 428):

وكذا لا يجب في ‌العلوفة...... حتى لو كانت العلوفة للتجارة كان فيها زكاة التجارة.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

16/جمادی الآخرۃ  1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب