03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بائع کا بیعانہ دینے کے بعد بقیہ رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں بیع کا حکم
89299خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، ایک مسئلے کے بارے میں شرعی حکم دریافت کرنا ہے ،مسئلہ یہ ہے کہ 2013 کے اندر میرے پاس دو آدمی ظہور اور نواز آئے، اور 12 کنال زمین کا سودا کیا،650000 فی کنال میں، اور یہ طے ہوا کہ ہم 10 لاکھ روپے بیعانہ آپ کو دیں گے، اوربقیہ رقم کی ادائیگی کے لیے 8 ماہ مقرر کیے گے، جب اسٹام لکھا جا رہا تھا، تو اس وقت انہوں نےہمیں نقد  دس لاکھ   روپے دیے،  اور باقی رقم  کی ادائیگی کے لیےمقررہ  مدت  طے کی گئی، کل رقم 7800000 بنتی ہے،جب آٹھ مہینے گزر گئے تو انہوں نے اس مدت کے اندر  بقیہ رقم کی ادائیگی نہیں کی، جبکہ   اسٹام میں یہ  تحریر  موجود ہے کہ ہم آٹھ مہینوں کے اندر باقی رقم اداکریں گے، پھر بھی  مزید میرے بھائی نے ان کو دو مہینوں کی مہلت  دی، اور دو مہینوں کے اندر بھی وہ نہیں آئے، پھر دو سال گزرنے کے بعد یعنی 2015 کے اندر وہ ہمارے پاس آئے ، تو ہم نے کہا کہ  ہم نے  آٹھ ماہ  کا وقت طے کیا  تھا، اور آپ کو دو ماہ کا مزیدوقت دیا تھا،جس کے اندر آپ نہیں آئے، لہذا اب دو سال کے بعد نئی زمین کی قیمت ہوگی، نیا معاہدہ ہو گا، لیکن وہ اس بات پر نہیں آئے، اور وہ عدالت چلے گے۔ 2015 سے اب تک کیس کےتقریبا 10سال ہو گئے، اور ان کی وجہ سے ہم مالک زمین  والوں کے بھی چھ لاکھ روپےاب  تک عدالتی اخراجات میں لگ چکے ہیں، عدالت میں بھی پہلے وہ گئے، تو بات یہ ہے کہ ان کی اپنی زبان پر اور اسٹام کے مطابق زمین نہیں خریدی اور الٹا ہٹ دھرمی کرتے ہوئے عدالت میں گئے ،اپنا بھی وقت ضائع کیا  اور ہمارا بھی، اور ہمارے  چھ لاکھ روپے تک پیسے لگوائے،اب پوچھنا یہ ہے کہ اس بارے میں اس سارے مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے شریعت ہمیں کیا کہتی ہے؟  اتنا عرصہ ہماری زمین عدالتی کیس کی وجہ سے پابند ہے،  نہ ہم اس میں کچھ بنا سکتے ہیں ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ اتنا عرصہ جو انہوں نے عدالت میں کیس کر کے جو ہمارا ضیاع کیا ہے، پیسوں کا بھی، وقت کا بھی اور خود اپنی زبان سے پھرے ، ہم تو ان کو دینے کے لیے تیار تھے مزید دو مہینے کا وقت بھی دیا تھا۔اب آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ اگر ہم آپس میں بیٹھ کے راضی نامہ کریں، تو انہیں ہم کو کیا دینا پڑے گا اور ہمیں ان کو کیا دینا ہے؟شریعت جو بھی کہے گی ہم اس کے پابند ہوں گے ، قران و حدیث کی روشنی میں مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔

تنقیح: سائل نے فون پر یہ وضاحت دی کہ معاہدہ میں  یہ شرط رکھی گئی تھی کہ مقررہ معیاد میں بقیہ رقم ادا  نہ کرنے پر بیع کالعدم متصور ہوگی اور یہ  وضاحت بھی دی کہ زمین  کا قبضہ نہیں دیاگیا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر معاہدہ میں یہ طے تھاکہ مقررہ وقت پر بقیہ رقم  ادا نہ کرنے پر یہ بیع ختم ہو جائے گی تو زمین کا مالک صرف اس مخصوص مدت تک ہی اس معاہدے کا پابند تھا۔ جب مقررہ مدت میں خریدار نے بقیہ رقم کی ادائیگی نہیں کی تو معاہدہ ختم ہو گیا تھا ۔لہذا خریدار کو اس کی پیشگی اداکی گئی رقم واپس کردی جائے،اس سے زائد کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔

  البتہ اگر اب بھی خریدار  زمین لینے کا ارادہ رکھتا ہو  تو دونوں فریق باہمی  رضامندی سے زمین کی کوئی بھی قیمت طے کر کے ازسر نو نیا سوداکرلیں۔

حوالہ جات

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام ط: دار الجيل (1/ 309):

"إذا تبايعا على أن يؤدي المشتري الثمن في وقت كذا وإن لم يؤده فلا بيع بينهما صح البيع."

الهداية في شرح بداية المبتدي ط: دار إحياء التراث العربي (3/ 29):

"ولو اشترى على أنه ‌إن ‌لم ‌ينقد ‌الثمن إلى ثلاثة أيام فلا بيع بينهما جاز... إذ الحاجة مست إلى الانفساخ عند عدم النقد تحرزا عن المماطلة في الفسخ."

بذل المجهود في حل سنن أبي داود ط: مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية   (11/ 221):

"ويرد العربان إذا ترك العقد على كل حال بالاتفاق."

محمد جمال بن جان ولی خان

دار  الافتاء جامعۃ الرشید

15/جمادی الثانیہ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد جمال بن جان ولی خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب