03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کے ترکہ کے بارے میں شرعی حکم
.89266میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میری شادی کو تقریباً گیارہ سال ہو چکے تھے، اور میرے بچے نہیں تھے۔ میری اہلیہ نے چھوٹی سی گھریلو لڑائی کی وجہ سے گھر سے باہر جا کر دکان سے گندم کی گولیاں خرید لی اور جان بوجھ کر یا نہ چاہتے ہوئے گندم کی گولیاں کھا لی، جس سے ان کی موت واقع ہو گئی۔ ان کی موت کے بعد ان سے باقی رہنے والی چیزوں کا شرعی کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بیٹی کی خودکشی پر میکے والوں کے تحفظات ہوسکتے ہیں ، انہیں اعتماد میں لینا چاہیے تاکہ صدمے کی کیفیت میں بھی شریعت کے تقاضوں پر چلنے کی توفیق  نصیب  ہو۔بہتر ہے کہ کسی خاندانی بزرگ یا علاقائی علماء کے سامنے حالات رکھ کر رہنمائی لی جائے۔آپ کے بیان کردہ حالات کو درست مانا جائےتو درج ذیل شرعی حکم پر عمل ہونا چاہیے۔

بیوی کی وفات  کے وقت جو کچھ بھی ان  کی ملکیت میں تھا، وہ سب ترکہ میں داخل ہے، اور اسے  شرعی حصص کے مطابق ورثہ میں تقسیم کرنا ضروری ہے۔ مرحومہ کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں شوہر کو کل ترکہ کا آدھا ملے گا۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري ط: دار الكتاب الإسلامي (8/ 557):

(يبدأ من تركة الميت بتجهيزه) المراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه...فيجب أن يعلم أن التركة تتعلق بها حقوق أربعة جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث، فيبدأ بجهازه وكفنه وما يحتاج في دفنه بالمعروف... ثم الدين...  ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن يجيز الورثة أكثر من الثلث، ويقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث.

رد المحتار ط : الحلبي (6/ 770):

"(والربع للزوج) ...(مع أحدهما) أي الولد أو ولد الابن (والنصف له عند عدمهما) فللزوج حالتان النصف والربع."

 محمد جمال بن جان ولی خان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی                                                                                                                                          15/جمادی الثانیہ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد جمال بن جان ولی خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب