| 89267 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
بیوی کی وفات کے بعد گھر کا سارا سامان ان کے والد یعنی میرے سسر نوشاد خان لے گئے۔ کپڑوں کی الماری اور موبائل فون بھی وہ لے جانا چاہتے ہیں جو کہ میں نے اپنے پیسوں سے خرید کر بیوی کو دی تھی ۔ گھر والی کا شناختی کارڈ بھی مانگ رہے ہیں جو کہ میرے نام پر بنا ہوا ہے۔ سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے دفتری کاروائی کے لئے مجھے اس کی ضرورت ہے۔ درج بالا مسئلہ کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیوی کی وفات کے وقت جو کچھ بھی ان کی ملکیت میں تھا، وہ سب ترکہ میں داخل ہے، اور اسے شرعی حصص کے مطابق ورثہ میں تقسیم کرنا ضروری ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں بیوی کے والد یعنی آپ کے سسر کا تقسیم ترکہ سے پہلے گھر کا سامان لینا درست نہیں، بلکہ تمام سامان کو شرعی حصص کے مطابق تقسیم کرنا ضروری ہے۔اسی طرح آپ نے اگر بیوی کےلیے موبائل فون یا الماری بطور ہبہ خرید کران کو دی تھی تو وہ بھی ترکہ میں شامل ہوگا ، اور اسے بھی شرعی حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ۔
مرحومہ کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں شوہر کو کل ترکہ کا آدھا ملے گا۔تاہم سسر کا یہ رویہ اعتمادکی کمی کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ جس کے لیے ضروری ہے کہ انہیں اعتماد میں لیا جائے تاکہ صدمے کی کیفیت میں بھی شریعت کے تقاضوں پر چلنے کی توفیق نصیب ہو۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري ط: دار الكتاب الإسلامي (8/ 557):
"(يبدأ من تركة الميت بتجهيزه) المراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه...فيجب أن يعلم أن التركة تتعلق بها حقوق أربعة جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث، فيبدأ بجهازه وكفنه وما يحتاج في دفنه بالمعروف... ثم الدين... ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن يجيز الورثة أكثر من الثلث، ويقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث."
رد المحتار ط :الحلبي (4/ 61):
"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."
رد المحتار ط : الحلبي (6/ 770):
"(والربع للزوج) ...(مع أحدهما) أي الولد أو ولد الابن (والنصف له عند عدمهما) فللزوج حالتان النصف والربع."
محمد جمال بن جان ولی خان
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی 15/جمادی الثانیہ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


