03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زوجین کا ایسے کمرے میں ملاقات کرنا جہاں کسی بھی وقت کوئی آسکتا ہو
89398نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

اگر نکاح شدہ جوڑا (ابھی تک جماع نہیں ہوا) لڑکی کے گھر کے ہال/ڈرائنگ روم میں ملتا ہو، اور دروازوں میں سرے سے تالے لگے ہی نہ ہوں، اس کمرے کے دو دروازے تھے جو صرف بند ہوتے تھے، لیکن ان پر تالے لگے ہی نہیں تھے، یعنی دروازوں میں تالے موجود نہ تھے، اس لیے اگرچہ دروازے بند رہتے تھے، مگر لاک نہ ہونے کی وجہ سے کسی کے بھی اندر آنے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا تھا، وہ عموماً لڑکی کی والدہ (ساس) کی موجودگی میں ملتے تھےجو ایک مخصوص وقت کے لیے مہمان کمرے میں ملنے کی اجازت دیتی تھیں، لیکن انہیں ہمیشہ یہ خوف رہتا تھا کہ لڑکی کے بھائی یا والد کسی بھی وقت گھر آ جائیں، اسی وجہ سے وہ وقفے وقفے سے مہمان کمرے میں آ کر جوڑے کو متنبہ کرتی رہتی تھیں، اب براہِ کرم دو صورتوں کو الگ الگ ملاحظہ فرمائیں:

گھر میں صرف لڑکی کی والدہ (ساس) موجود تھیں، جوڑا مہمان کمرے میں دروازے بند کر کے ملتا تھا، لیکن دروازوں میں تالے موجود نہ ہونے کی وجہ سے لڑکی کی والدہ کے بلا اجازت اندر آ جانے کا خدشہ ہر وقت رہتا تھا،وہ کبھی دروازہ کھٹکھٹا کر یا آواز دے کر بغیر اجازت بھی کمرے میں داخل ہو جاتی تھیں۔

ایک مرتبہ اسی گھر میں لڑکی کی والدہ (ساس) اور لڑکے کی والدہ دونوں موجود تھیں،جوڑا اسی مہمان کمرے میں تھا جیسا کہ اوپر کی صورت میں بیان کیا گیا، دروازے بند تو تھے، مگر لاک نہ ہونے کی وجہ سے کسی کے بھی اندر آ جانے کا خدشہ موجود تھا،اس موقع پر لڑکے کی والدہ نے دروازہ کھٹکھٹایا اور جوڑے نے انہیں اجازت دے کر اندر آنے دیا، اگرچہ انہوں نے اجازت لے کر داخلہ کیا اور اس کے بعد وقفے وقفے سے آ کر ڈراتی بھی رہیں کہ لڑکی کے والد آ جائیں گے، لیکن کمرے کی نوعیت ایسی تھی کہ وہ اگر چاہتیں تو بغیر اجازت بھی اندر داخل ہو سکتی تھیں، جیسا کہ لڑکی کی والدہ داخل ہوا کرتی تھیں۔

براہِ کرم بتائیں کہ یہ دونوں صورتیں خلوتِ صحیحہ کے حکم میں آتی ہیں یا نہیں؟ یہ بھی نوٹ کر لیں کہ جوڑا ہمیشہ اس خدشے میں رہتا تھا کہ کوئی بھی اندر آ جائے، جیساکہ لڑکی کی والدہ آتی رہتی تھیں، اور دونوں کی ماؤں کو بھی یہ فکر رہتی تھی کہ لڑکی کے والد یا بھائی کسی بھی وقت گھر پہنچ سکتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خلوت صحیحہ کا اطلا ق ایسی تنہائی پر ہوتا ہے ،جہاں میاں بیوی کےدرمیان ازدواجی تعلق کے قیام سے کوئی حسی،طبعی یاشرعی مانع موجود نہ ہو،چونکہ مذکورہ  دونوں صورتوں میں آپ دونوں کو ایسی تنہائی میسر نہیں ہوئی، اس لئے ان دونوں صورتوں پر خلوت صحیحہ کا اطلاق نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية "(1/ 305):

"والمكان الذي تصح فيه الخلوة أن يكونا آمنين من اطلاع الغير عليهما بغير إذنهما كالدار والبيت .كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان .ولا تصح الخلوة في الصحراء، ليس بقربهما أحد إذا لم يأمنا مرور إنسان وكذا لو خلا على سطح، ليس على جوانبه ستر أو كان الستر رقيقا أو قصيرا،بحيث لو قام إنسان، يقع بصره عليهما، لا تصح الخلوة إذا خافا هجوم الغير".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

24/جمادی الثانیہ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب