03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر بیوی کو نماز پڑھنےکے لیےمار سکتا ہے یا نہیں؟
89447نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگرشوہر کے بار بار بولنے اور ڈانٹنے پر بھی بیوی نماز نہیں پڑھتی ہے تو کیا شوہر بیوی کو نماز پڑھنےکے لیے مار پیٹ سکتا ہے یا نہیں ؟اور بیوی کو نماز کے لیے کیسے تیار کریں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

    اگر بیوی بےنمازی ہو تو شوہر کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے ہدایت اور نماز کی پابندی کی دعا کرے۔گھر میں نماز کا ماحول بنائے۔  محبت اور نرمی کے ساتھ بیوی کو نماز کی اہمیت اور اس کے فضائل سمجھائے، اور نماز ترک کرنے پر جو وعید اور عذابِ الٰہی کی احادیث آئی ہیں وہ بھی اسے سنائے۔ نماز نہ پڑھنے پر اپنی ناراضگی کا مناسب اظہار کرے ۔

    البتہ صرف نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے بیوی کو مارنے کی اجازت نہیں؛ کیونکہ نماز پڑھنے پر ثواب اور نہ پڑھنے پر عذاب کی مستحق وہ خود ہوگی۔ ہاں اس کے باوجود شوہر کو نصیحت اور دعا کی صورت میں کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

حوالہ جات

 القرأن الكريم (سورة طه:132) :

"وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرُ عَلَيْهَا."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (4/ 77):

(ويعزر المولى عبده والزوج زوجته) ولو صغيرة لما سيجيء (على تركها الزينة و غسل الجنابةو الخروج من المنزل وترك الإجابة إلى الفراش) ......... و (لا على ترك الصلاة) لأن المنفعة لا تعود عليه بل إليها، كذا اعتمده المصنف تبعا للدرر على خلاف ما في الكنز والملتقى.  

وتحته في رد المحتار:

(قوله ولا على ترك الصلاة) عطف على قوله وليس منه إلخ؛ لأنه في معنى لا يضربها على طلب نفقتها . ط. (قوله تبعا للدرر) وكذا ذكره في النهاية تبعا لمافي الحاكم كما في البحر.

قره عيون الأخيار لتكملة رد المحتار  (8/ 13):

والصحيح أنه لا يضربها على ترك الصلاة كما مر في موضعه مفصلا.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق  (3/ 211):

وذكر في النهاية أنه إنما يضربها لمنفعة تعود إليه لا لمنفعة تعود إلى المرأة ألا ترى أنه ليس له أن يضربها على ترك الصلاة وله أن يضرب ولده على ترك الصلاة .

درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 77):

(لا) أي لا يعزر الزوج زوجته (على ترك الصلاة والأب يعزر الابن عليه) قال في النهاية إنه إنما يضربها لمنفعة تعود إليه لا لمنفعة تعود إليها ألا يرى أنه ليس له أن يضربها على ترك الصلاة وله أن يضربها على ترك الزينة ونحوه.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 171):

وفي كتاب العلل: ليس للزوج أن يضرب امرأته على ترك الصلاة.

محمد ابرار الحق

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

26/جمادی الاخری/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابرار الحق بن برھان الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب