| 89393 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرا نام محمد فیاض ہے۔ میرے بھائی کے ساتھ جائیداد کا مسئلہ چل رہا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ ہمارے والد صاحب کا انتقال جب ہوا تو اس وقت میری عمر 25 سال تھی اور میرے بھائی سیف الرحمان کی عمر 6 ماہ تھی۔ ہمارے والد کی کوئی وراثت نہیں تھی۔ ہم تین بھائی اور ایک بہن ہیں، اور ہمارے تین سوتیلے بھائی اور تین سوتیلی بہنیں ہیں جو ہماری والدہ کے دوسرے نکاح سے ہیں۔
ہمارے سر پر والد کا سایہ نہیں تھا، اور حالات کی وجہ سے ہم تعلیم حاصل نہ کر سکے اور کم عمری سے ہی محنت مزدوری میں لگ گئے۔ میں 1992ء میں پہلی بار کراچی آیا اور یہاں تنخواہ پر کام کرکے پیچھے گھر کا نظام چلانے لگا۔ میرا بڑا بھائی ریاض ولد سلطان وہاں تنخواہ پر نوکری کرتا تھا اور گھر دیکھتا تھا۔ سیف الرحمان ولد سلطان، جو ہم دونوں سے چھوٹا تھا، کو کراچی بلوایا اور اپنے ساتھ کام پر لگا دیا۔
اس سے محنت کا کام نہیں ہوتا تھا۔ تین جگہوں سے کام سے ہٹنے کے بعد اس نے مجھ سے کہا کہ مجھ سے یہ محنت کا کام نہیں ہوتا، ہم اپنا کام شروع کرتے ہیں۔ میں باہر سے آرڈر لاؤں گا اور تم آرڈر تیار کرنا۔ اور پھر اسی طرح ہم کام کرنے لگے۔ میں صبح 8 سے شام 5 بجے تک نوکری کرتا تھا اور 5 بجے کے بعد اپنی مشین چلا کر رات 10 بجے تک اپنا کام کرتا تھا۔
جب ہمارا کام اچھا ہو گیا اور اس سے ہمارا گھر چلنے لگا تو میں نے نوکری چھوڑ دی اور صرف اپنا کام کرنے لگا۔ میں باہر کا سارا نظام سنبھالتا رہا اور بڑا بھائی گھر کا نظام سنبھالتا رہا۔ اس کاروبار سے ہم نے گاؤں میں کچھ زمینیں خریدیں اور یہاں کراچی میں ایک پلاٹ خرید کر گھر بنایا، جس میں ہم دونوں بھائی رہتے تھے۔ 2017ء میں ہم الگ ہو گئے۔
گاؤں میں جو زمینیں اور گھر موجود تھے وہ بڑے بھائی ریاض کے نام پر تھے۔ اس نے وہ ہم چھ بھائیوں میں برابر تقسیم کر دیے: تین سگے اور تین سوتیلے۔ اب ہمارا مسئلہ صرف اس ایک گھر کا ہے جو کراچی میں ہے، جس میں ہم دونوں بھائی رہتے تھے، جس کی مالیت آج تقریباً 4 سے 6 کروڑ ہے، اور وہ میرے چھوٹے بھائی سیف الرحمان کے نام پر ہے۔
سیف الرحمان نے مجھے کاروبار میں سے برابر حصہ نہیں دیا اور نہ ہی گھر میں سے کچھ دینے کو راضی ہے۔ سیف الرحمان کا کہنا ہے کہ یہ گھر میرے نام پر ہے، میں اس کا قانونی مالک ہوں، تمہارا اس میں کوئی قانونی حق نہیں ہے اور نہ ہی شریعت کے مطابق کوئی حق ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کاروبار میرا تھا اور میں نے اتنے سال تک تم سب بہن بھائیوں کو پالا ہے۔
وہ یہ بھی کہتا ہے کہ اگر ہم پارٹنرز تھے تو کوئی ایگریمنٹ دکھاؤ۔ اس کا کہنا ہے کہ بھائی آپس میں کام کرتے ہیں تو کوئی ایگریمنٹ نہیں ہوتا۔ میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں آدھے کا مالک ہوں کیونکہ میں نے برابر محنت کی ہے۔ ہمارے باقی بھائی اس بات پر راضی ہیں کہ تم دونوں آپس میں آدھا آدھا بانٹ لو۔میں دونوں صورتوں پر راضی ہوں: یا تو آدھا آدھا دونوں بھائیوں میں بانٹ لیا جائے، یا تین سگے بھائیوں میں بانٹا جائے اور ماں کو بھی حصہ دیا جائے۔ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن سیف الرحمان اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے کہ ہم کبھی اکٹھے رہتے تھے۔
وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے اتنے سال تک تم سب کو کھلایا پلایا ہے اور گاؤں میں گھر اور زمین بھی دی ہے۔ میری معلومات کے مطابق اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی کسی کو نہیں پالتا۔ وہ اس بات کو بھی نہیں مانتا کہ ہم کبھی اکٹھے تھے، جبکہ میری دلیل یہ ہے کہ اکٹھے ہونے کی وجہ سے ہمارے گھر کا چولہا ایک تھا، جو اسی کاروبار سے چلتا تھا جو ہم دونوں بھائی چلاتے تھے۔
اس دوران میری کوئی طے شدہ تنخواہ نہیں تھی۔ میں بوقتِ ضرورت جو پیسے چاہتا تھا لے لیتا تھا۔ باقی ہمارے گھر کا چولہا ایک ساتھ تھا، ہم ایک ساتھ رہتے اور کام کرتے تھے۔ میرے اور اس کے بچوں کی اسکول فیس اور دیگر اخراجات بھی اسی کاروبار سے ادا ہوتے تھے۔
اب ہمارا مسئلہ صرف اسی ایک گھر کا ہے جو کراچی میں ہے اور سیف الرحمان کے نام پر ہے۔ مہربانی فرما کر اتنی رہنمائی فرما دیں کہ شریعت کے مطابق اس جائیداد میں میرا کیا حصہ بنتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر بیان کردہ حقائق درست ہیں کہ آپ اور سیف الرحمان نے بغیر طے شدہ تنخواہ کے طویل عرصہ مشترکہ طور پر کاروبار کیا، اسی کاروبار کی آمدن سے گھر کے اخراجات، بچوں کی فیسیں اور کراچی والا گھر بنایا گیا، اور عرفاً آپ دونوں شریک سمجھے جاتے تھے، تو شریعت کی رو سے یہ شرکت ہے، محض گھر کا سیف الرحمان کے نام پر ہونا فیصلہ کن نہیں، بلکہ حقیقتِ معاملہ معتبر ہے، لہٰذا وہ گھر مشترکہ ملکیت شمار ہوگا اور آپ اپنے حصے کے حق دار ہیں، محنت تقریباً برابر ہونے کی صورت میں آدھا حصہ بنتا ہے اور کسی شریک کو بلا وجہ محروم کرنا شرعاً ظلم اور ناجائز ہے۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (4 / 325)
(قوله: وما حصله أحدهما) أي بدون عمل من الآخر ۔۔۔۔وإن لم يعرف مقدار ما كان لكل منهما صدق كل منهما إلى النصف؛ لأنهما استويا في الاكتساب وكأن المكتسب في أيديهما فالظاهر أنه بينهما نصفان، والظاهر يشهد له في ذلك، فيقبل قوله ولا يصدق على الزيادة على النصف إلا ببينة؛ لأنه يدعي خلاف الظاهر. اهـ. فتح.
مطلب: اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية [تنبيه] يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز. فأجاب بأنه بينهما سوية.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام - (8 / 46)
تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم ، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة ؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما .
البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي - (ج 17 / ص 37)
(وقسم القاضي بطلب أحدهم لو انتفع كل بنصيبه) لان فيه تكميل المنفعة إذا كان كل واحد منهم ينتفع بنصيبه بعد القسمة وكانت القسمة حقا لهم فوجب على القاضي إجابتهم.
قال اللہ تعالی :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ(نساء،۲۹)
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :
ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه(مسند احمد :۳۴؍۲۹۹،رقم: و۲۰۶۹۵)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
26/06/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


