03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نماز میں تشہد کے الفاظ میں اعرابی غلطی یا شک کی صورت میں شرعی حکم
89442نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

          مجھے شک ہے کہ شاید میں نماز کے تشہد میں "وَ عِبَادِ اللّٰهِ" پڑھتا رہا ہوں، جبکہ صحیح الفاظ "وَ عَلٰی عِبَادِ اللّٰهِ" ہیں۔ میں یقین سے نہیں جانتا کہ میں نے واقعی غلطی کی ہے یا نہیں، اور اگر غلطی کی بھی ہو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ کتنی نمازوں میں کی۔اب سوال یہ ہے کہ اگر مجھ سے یہ لفظ غلط پڑھا گیا ہو یا مجھے صرف شک ہو، تو ایسی صورت میں میری نماز کا کیا حکم ہے؟ کیا قضا لازم ہے یا نماز ادا ہو جاتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

       واضح رہے کہ نماز میں تشہد پڑھنا واجب ہے۔ اگر کوئی شخص عمداً تشہد چھوڑ دے تو نماز نہیں ہوگی، اور اگر بھول جائے یا تشہد کا کوئی ایک لفظ بھی چھوٹ جائے تو سجدۂ سہو واجب ہوگا، جس کے بغیر نماز ناقص رہے گی۔ صورت مسئولہ میں اگر آپ کو صرف شک ہو اور ظن غالب نہ ہو تو نماز ادا ہو گئی ہے، قضا کی ضرورت نہیں۔ البتہ آئندہ تشہد پڑھتے وقت درست الفاظ کا اہتمام کریں۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 53)

" والتشهد: التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي إلى آخره " وهذا تشهد عبد الله بن مسعود رضي الله عنه فإنه قال أخذ رسول الله عليه الصلاة والسلام بيدي وعلمني التشهد كما كان يعلمني سورة من القرآن وقال " قل التحيات لله إلى آخره " والأخذ بهذا أولى من الأخذ بتشهد ابن عباس رضي الله عنهما..." وتشهد " وهو واجب عندنا ".

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 47)

" فرائض الصلاة ستة: ..." والقعدة في آخر الصلاة مقدار التشهد " لقوله عليه الصلاة والسلام لابن مسعود رضي الله عنه حين علمه التشهد " إذا قلت هذا أو فعلت هذا فقد تمت صلاتك " علق التمام بالفعل قرأ أو لم يقرأ.

قال: " وما سوى ذلك فهو سنة " أطلق اسم السنة وفيها واجبات...والقعدة الأولى وقراءة التشهد في القعدة الأخيرة ...ولهذا تجب عليه سجدتا السهو بتركها هذا هو الصحيح.

أحسن الفتاوی: (48/4)

...تشہد پورا واجب ہے ، اس میں سے ایک لفظ بھی رہ گیا تو سجدہ سہو واجب ہے۔ قال في الدر فى واجبات الصلوة والتشهد ان وليسجد للسهو بترك بعضه ككله الخ، و في الشامية ( قوله والتشهدان) الى تشهد القعدة الأولى وتشهد الاخيرة والتشهد المحروق عن ابن مسعود رضی الله تعالى عنه لا يجب بل هو افضل من المروى عن ابن عباس وغيره رضى الله تعالى عنهم ( قوله بترك بعضه ككله ) قال في البحر من باب سجود السهو فانه يجب سجود السهو يتركه ولو قليلاً فى ظاهر الرواية لانه ذكر واحد منظوم فترك بعضه كترك كله الله (رد المحتار م م ج 1)

محمد شاہ جلال

دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

26/جماد الاخری/1447ھ     

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب