03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شریک کو اعتماد میں لیے بغیر فیکٹری کی مشینری فروخت کرنے کا حکم
89513شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسلئہ ذیل کے بارے میں فیصل انصاری نے آصف عبداللہ اور ناصر بن جعفر کے ساتھ ورکنگ پارٹنر کی حیثیت سے نومبر 2019 میں انصاری برادرز کے نام سے فیکٹری لگانی شروع کی۔ طے یہ پایا کہ 50 فی صد حصہ ورکنگ پارٹنر اور 50 فی صد حصہ انویسٹرز کا ہوگا۔ جس میں آصف عبداللہ نے 25 فی صد ورکنگ پارٹنر میں بھی حصہ مانگا۔ جس پر فیصل انصاری راضی نہیں ہوابعد ازاں آصف عبداللہ کے ورکنگ میں عملی طور پر شامل ہونے کی یقین دہانی پر فیصل آصف عبداللہ کو 15 فی صد حصہ دینے پر راضی ہوگیا۔ جس کے بعد فیصل کا 35 فی صد اور آصف عبداللہ کا 15 فی صد ورکنگ میں شئیر بنا۔ انویسٹمینٹ میں آصف عبداللہ نے کم و بیش 1 کروڑ 11 لاکھ اور ناصر بن جعفر نے 3 کروڑ 41 لاکھ روپے لگائے۔ اس طرح انویسٹمینٹ میں آصف عبداللہ کا شئیر 24.60 فی صد اور ناصر بن جعفر کا 75.40 فی صد بنا۔ مجموعی طور پر کمپنی شئیر میں فیصل انصاری 35 فی صد ، آصف عبداللہ 27.3 فی صد اور ناصر بن جعفر 37.7 فی صد کے مالک بنے۔ ناصر نے اپنے 37.7 فی صد حصے کا مالک و مختیار فیصل انصاری کو بنادیا تھا۔ اس طرح فیصل انصاری 72.7 فی صد اور آصف عبداللہ 27.3 فی صد کے حامل ہوئے۔ فیکٹری لگاتے وقت فیکٹری کے معاملات میں فیصلہ سازی کا مکمل اختیار فیصل انصاری کے پاس تھا۔جس میں آصف عبداللہ نے بھی کوئی دخل اندازی نہیں کی اور جیسا فیصل نے کہا وہ ہوتا رہا۔ فیصل نے فیکٹری کے لیے سائٹ ایریا کراچی میں جگہ 450000 روپے ماہانہ کرایہ پر لی۔ جگہ کے مالک نے گیس اور بجلی کی فراہمی کا وعدہ کیا کہ بجلی فوراً اور گیس تین ماہ کے بعد مہیا کر دی جائے گی۔ ہم نے جگہ کا کرایہ داری کا معاہدہ طے کر کے مشین لگانے کا کام شروع کردیا۔ مالک جگہ نے کم وبیش 15 دن بعد بجلی فراہم کر دی۔ ہم مشین لگاتے رہے اور مزید خرایداری بھی کرتے رہے۔جس کے لیے انویسٹنگ پارٹنرز سے ضرورت کے تحت رقم لیتے رہے یہ بات ذہن نشین رہے کہ مارچ 2020 میں کرونا کی وباء آچکی تھی۔ جس کی وجہ سے تمار کاروبار بند ہوگئے اور حکومتی ادارے بھی مستقل کام نہیں کررہے تھے جس کی بنا پر ہمیں گیس کنکشن نہیں مل سکا۔ ہم نے تمام مشینری لگانے کا عمل وبائی مرض کے دور میں مکمل کرلیا۔ اس تمام عرصے میں آصف عبداللہ نے عملی طور پربحیثیت ورکنگ پارٹنر کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اور فیصل انصاری کے بارہا بلانے پر چند بار فیکٹری آئے اور معمول کے معاملات دیکھ کر چلے گئے۔ گیس نہ ہونے کی وجہ سے ہم نے جنوری 2021 میں کاروباری عمل ایل پی جی گیس کی مدد سے شروع کیا مگر کرونا کی وجہ سے ہونے والے نقصانات اور گیس کنکشن نہ ملنے کی وجہ سے ہم شدید مالی بحران کا شکار ہوگئے تھے ۔ اور ایل پی جی گیس پر کارباری عمل شروع کرنے کے بعد ہم مزید نقصانات کا شکار ہوگئے۔ اور ہم نے اکتوبر 2021 میں کام بند کردیا۔ نقصانات کی وجہ سے فیکٹری پر مارکیٹ کے کافی واجبات چڑھ گئے۔ اور فیکٹری روز بروز نقصان کا شکار ہوتی رہی۔ ہم گیس کا انتظار کرتے رہے۔ اگست 2022 میں گیس کنکشن بحال ہوگیا۔ اور ہم نے شدید مالی بحران کے باوجود بہتر مستقل کی امید پر دوبارہ کام شروع کیا۔ مگر 1 سال میں مالی نقصانات ہماری بساط سے کئی گناہ باہر ہوگئے۔ اور ہم تمام کاروبار ختم کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اس تمام کاروباری دور کے دوران اور بیان کردہ حالات و واقعات کے پیش نظر فیصل انصاری نے اپنی نا ساز طبیعت اور شدید ذہنی و مالی دباؤ کی وجہ سے بارہا آصف عبداللہ کو بلایا اور وہ آئے بھی لیکن انہوں نے کوئی بھی ذمہ داری لینے سے معذرت کی بوجہ مجبوری کہ یہ ان کا شعبہ نہیں ہے کہ وہ فیکٹری چلائیں اور اس بات کا فیصل کو اختیا ر دیا کہ فیکٹری چلانے کے معاملات وہ خود دیکھے۔ لہٰذا فیکٹری کے معاملات کے تمام اختیارات فیصل انصاری کے پاس ہی رہے – اور وہ اپنی بساط فہم و فراست کے مطابق فیصلے کرتا رہا۔ جس میں کبھی کسی نے کوئی دخل اندازی نہیں کی۔ چونکہ تمام امور کی ذمہ داری فیصل کے پاس تھی لہٰذا فیکٹری بند ہونے کے بعد مارکیٹ کی تمام دین داری کی ذمہ داری بھی فیصل انصاری کے کندھوں پر آئی۔ اور مارکیٹ کے لوگوں نے فیصل انصاری سے ہی تمام واجبات کا تقاضا کیا کیوں کہ بقایا تمام انویسٹر کا کاروباری عمل میں کوئی عمل دخل نہیں تھا اور نہ ہی وہ فیکٹری آتے تھے۔ اور نہ ہی مارکیٹ ان کو جانتی تھی۔ قانونی طور پر بھی کاروبار فیصل انصاری کے ہی نام پر تھا۔ لہذا فیصل انصاری نے مذکورہ بالا حالات کی بنیاد پر تمام مشینری فروخت کرنے کا ارادہ کیا اور تمام انویسٹرز کو بشمول آصف عبداللہ یہ بتادیا کہ میں مشین فروخت کرنے جارہا ہوں جس پر آصف عبداللہ نے کہا کہ چلو آپ کرو دیکھتے ہیں۔ فیصل انصاری نے سائٹ ایریا کراچی کے جو بھی معروف خریدار تھے ان تمام سے رابطہ کیا اور تمام فیکٹری کی قیمت لگوائی ۔ جس میں تقریباً مزید 3 ماہ کا عرصہ بیت گیا۔ گزرتے وقت کے ساتھ بند فیکٹری مزید مالی نقصانات کا باعث بن رہی تھی لہٰذا فیصل انصاری نے انویسٹرز کی سابقہ عدم دخل اندازی اور اپنے پاس 72.7 فی صد حصہ ہونے کے امور کو دیکھتے ہوئے تمام مشین کسی بھی انویسٹر کو اعتماد میں لیے بغیر اور پیشگی اطلاع کے دسمبر 2023 میں 1 کروڑ 85 لاکھ میں فروخت کردی۔ جو کہ اس وقت فیصل کی تمام تر نیک نیتی پر مبنی شب و روز کی انتھک کاوش کے بعد سب سے زیادہ قیمت فروخت تھی۔ واللہ اعلم۔ فیکٹری کی فروخت کے وقت لین دین کا تخمینہ مندرجہ ذیل تھا قابل ادائیگی 25337199 روپے، قابل وصولی 26205200 روپے ،بقایا رقم 868001 روپے، فیصل نے تمام مشین فروخت کرکے مارکیٹ کے واجبات ادا کیے۔ اور آصف عبداللہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ اور دیگر ذرائع سے معلوم ہونے پر آصف عبداللہ نے بھی فیصل سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ بہرحال کچھ عرصہ کے بعد آصف عبداللہ نے فیصل اور آصف عبداللہ کے مشترکہ دوست و ضامن سراج میمن کے ذریعے فیصل سے ملنے کا کہا۔ تاکہ بیٹھ کر حساب کتاب کیا جا سکے جو کہ دونوں اطراف کی مصروفیات کی وجہ سے کم وبیش 1 سال تک مؤخر ہوتارہا۔ بہرکیف فروری 2025 میں فیصل اور آصف عبداللہ سراج میمن کے آفس میں ملے۔ رسمی بات چیت کے بعد آصف عبداللہ نے اس بات کا شکوہ کیا کہ 1۔ مشین فروخت کرتے وقت مجھے اعتماد میں نہیں لیا گیا میں اچھی قیمت میں مشین فروخت کرواسکتا تھا۔ 2۔ فیصل انصاری نے جو حساب بنایا ہے۔ اسمیں صرف مشین پر جو رقم لگی ہے (اس پر بھی وہ مطمئن نہیں ہیں) انویسٹمنٹ میں اسکو شمار کیا جائے ۔ بصورت دیگر صرف فکسڈ اسیٹ انویسٹمینٹ میں شمار کیا جائے اس کے علاوہ فیکٹری لگاتے وقت جو رقم دیگر امور میں خرچ ہوئی ہے( مثلاً جگہ کا کرایہ ، ملازمین کی تنخواہیں۔ تعمیراتی کام اور دیگر روز مرہ کے خرچے ) ان کو انویسٹمینٹ میں شمار نہیں کیا جائے۔ 3. مجھے میری مکمل رقم لوٹائی جائے (باوجود اسکے کہ وہ پارٹنر تھے جو کہ کمپنی میں 27.3 فی صد حصہ کے حامل تھے۔ 15 فی صد ورکنگ پارٹنر کی حیثیت سے اور 12.3 فی صد انویسٹڑ کی حیثیت سے) 4۔ آصف عبداللہ نے کہا کہ سراج میمن جو فیصلہ کریں گے قبول ہوگا۔ سراج صاحب نے کہا کہ میں فیصلہ نہیں کروں گا میں اپنی رائے کا اظہار کروں گا۔ فیصل اور آصف عبداللہ دونوں کواس بات کا مکمل اختیار ہوگا کہ وہ میری رائے قبول کریں یا مسترد۔ لیکن میں نہ شرعی طور پر اور نہ ہی کاروباری طور پر اس رائے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لوںگا۔ اس کے بعد انہوں نے فیصل کے بنائے گئے حساب کی بیناد پر اس رائے کا اظہار کیا کہ چونکہ فکسڈ ایسٹ کم بیش 3 کروڑ کا ہے لہٰذا اس کی قیمت فروخت بھی تین کروڑ ہی تصور کی جائے گی (جبکہ وہ 1 کروڑ 85 لاکھ میں فروخت ہوا)۔ چونکہ فیصل انصاری نے مشین فروخت کے وقت آصف عبداللہ کو اعتماد میں نہیں لیا تھا ہو سکتا ہے وہ مشین 3 کروڑ یا اس سےبھی زیادہ میں بھی فروخت کروا دیتے۔ اس حساب سے نقصان ڈیڑھ کروڑ بنتا ہے۔ اب چونکہ آصف عبداللہ انویسٹمینٹ میں 24.6 فی صد کے حامل ہیں لہٰذا وہ نقصان میں بھی 24.6 فی صد برداشت کریں گے ۔ اس حساب سے فیصل انصاری آصف عبداللہ کو کم و بیش 80 لاکھ دینے کا پابند ہے۔ 5۔ سراج صاحب نے اپنی رائے میں واجبات کو مکمل نظر انداز کردیا اور اس کی ادائیگی کی مکمل ذمہ داری فیصل انصاری پر ڈال دی۔ جو کہ 25337199 روپے بنتے تھے۔ اس رائے کو فیصل انصاری نے قبول نہیں کیا اور اپنا موقف دیا کہ 1۔ میں نے مشین اس وقت کے حالات و واقعات کے مطابق وقت کی بہترین قیمت پر فروخت کی تھی یعنی 1 کروڑ 85 لاکھ۔ لہٰذا نقصان کا تخمینہ لگاتے وقت حقیقی قیمت فروخت کو لیا جائے نہ کہ فرضی قیمت فروخت جو کہ آصف عبداللہ کو اعتماد میں نہ لینے کی بنا پر لی جارہی ہے۔ (اعتماد میں کیوں نہیں لیا اس بارے میں فیصل انصاری نے اپنی رائے کا مندرجہ بالا تفصیل میں صراحتاً تذکرہ کردیاہے) 2۔ فیکٹری لگاتے وقت جو بھی خرچہ ہوا ہے فکسڈ ایسٹ کی خرید کے علاوہ ، وہ بھی انویسٹمینٹ ہی ہے 3۔ فیکٹری کے جو واجبات ہیں ۔ ان کی ادائیگی بھی تمام انویسٹرز کی ذمہ داری ہے۔ لہٰذا نقصان کے تخمینہ میں واجبات کو بھی شامل کیا جائے۔ 4۔ تمام مشین فروخت اور واجبات کی ادئیگی کے بعد کم بیش 8 لاکھ روپے باقی بچے۔ 5۔ انویسٹ کی گئی تمام رقم نقصان کی مد میں ضائع ہوگئی۔ 6۔ چونکہ یہ معاملہ پیچیدہ ہے لہٰذا اس تمام معاملے کو شرعی طور پر حل کیا جائے اور کسی بھی مستند دارالافتاء میں تمام حالات و واقعات لکھ کر بھیج دیے جائیں مذکورہ بالا تمام حالات و واقعات فیصل انصاری نے اپنی بساط کے مطابق اللہ کو حاضر و ناظر جان کر مکمل ایمانداری ، خلوص اور نیک نیتی سے لکھے ہیں۔ جس پر وہ اللہ کو گواہ بنا کر حلفاً اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس نے مالی معاملات میں کچھ بھی غلط اندراج نہیں کیا۔ اور تمام حساب جہاں جو خرچ کیا ہے اس کے مطابق لکھاہے۔ اور فیکٹری کو اپنی تمام تر حامل بہترین صلاحیتوں کے مطابق بنا غفلت چلاتارہاہے۔ جس میں اس سے یقیناً بحثیت انسان کمی کوتاہی اور غلطی ہوئی ہوگی۔ واللہ اعلم۔ مذکورہ بالا تمام تر تفصیل کے بعد معلوم کرنا ہے کہ   فیصل انصاری ، آصف عبداللہ کو کتنی رقم دینے کا مجاز ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فیصل انصاری صاحب اور آصف عبداللہ صاحب نے متعین سرمایہ اور متعین منافع کی بنیاد پر شرکتِ عقد کا معاملہ کیا تھا۔ شرکتِ عقد میں اصول یہ ہے کہ ہر شریک کو ایسے تصرفات کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے جن کی کاروباری عرف میں گنجائش ہو۔ البتہ ایسا تصرف جس میں واضح نقصان کا اندیشہ ہو، اس کے لیے دوسرے شریک سے صریح اجازت شرعاً ضروری ہوتی ہے۔ اگر اجازت کے بغیر ایسا تصرف کیا جائے تو وہ تعدی کے حکم میں ہوگا اور اس پر ضمان واجب ہوگا۔

اسی اصول کی روشنی میں فیصل انصاری صاحب نے فیکٹری کو آگے بڑھانے کے لیے جو عملی اقدامات کیے، وہ درست تھے، کیونکہ وہ سب فیکٹری کے مفاد میں تھے۔ اسی طرح جب مشینری فروخت کرنے کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے شریک آصف عبداللہ صاحب کو اس کی اطلاع دی، جس کے جواب میں آصف صاحب نے کہا "چلو، آپ کرو، دیکھتے ہیں" یہ عبارت فی الجملہ اجازت پر دلالت کرتی ہے۔ مزید یہ کہ فیکٹری کے تمام معاملات عملاً فیصل انصاری صاحب ہی انجام دیتے رہے، اور آصف عبداللہ صاحب نے کبھی ان معاملات میں دخل اندازی نہیں کی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آصف عبداللہ صاحب کو مکمل طور پر اعتماد میں نہ لینے کی بنیاد پر تعدی ثابت نہیں ہوتی، لہٰذا اس معاملے میں ضمان بھی لازم نہیں آتا۔

چنانچہ فیکٹری کے تمام واجبات ادا کرنے کے بعد جو رقم باقی بچی ہے، یعنی 8,68,001 روپے، اسے دونوں شریکوں کے درمیان ان کی سرمایہ کاری کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا۔اور  آصف عبداللہ صاحب کی طرف سے کیا گیا اعتراض شرعاً معتبر نہیں ہے، اسی طرح سراج صاحب کی جانب سے دیا گیا فیصلہ بھی شریعت کے اصولوں کے خلاف ہونے کی بنا پر قابلِ اعتبار نہیں ہے۔

حوالہ جات

ردالمختار :۶/۴۹۳

وما كان إتلافاً للمال أو تمليكاً من غير عوض فإنه لا يجوز ما لم يصرح به نصاً .............. ( ويضمن بالتعدي) وهذا حكم الأمانات اهـ

فتاوی عالمکیری : ۲/۳۲۰

فإن الربح بينهما على الشرط، والوضيعة أبدا على قدر رءوس أموالهما، كذا في السراج الوهاج

بدائع الصنائع:۷/۱۵۲

الوديعة إذا تلفت بتعدي المودَع وجب عليه ضمان قيمتها وقت التلف.

ردالمختار :۶/۴۹۴

وهو( أن الشريك )أمين في المال فيقبل قوله( بيمينه )في (مقدار الربح والخسران والضياع و )الدفع لشريكه

ردالمختار :۶/۴۹۴                   

ولكل من شريكي العنان والمفاوضة   ) هذا كله عند عدم النهي. ففي الفتح : وكل ما كان لأحدهما إذا نهاه عنه شريكه لم يكن له فعله( أن يستأجرمن يتجر له أو يحفظ المال ويبضع ويودع ويضارب ويوكل أجنبياً ببيع وشراء، ويبيع  بما عز وهان خلاصة بنقد ونسيئة.بزازية ويسافر بالمال له حمل أو لا هو الصحيح

عبداللہ المسعود

دارالافتا ء،جامعۃالرشید کراچی

۲۸⁄جمادی الاخری ⁄۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب