| 89439 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص فوت ہوا،اس کے ورثہ میں ایک بھتیجی،دوبھانجے اورچاربھانجیاں ہیں،میراث کیسے تقسیم ہوگی؟مرحوم کے بیٹے،بیٹی،پوتے،پوتی،والدین وغیرہ میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم کے ترکہ کو تقسیم کرنے کاطریقہ یہ ہے کہ مرحوم نے انتقال کے وقت جائیداد سمیت جومنقولہ اورغیرمنقولہ سامان اورنقدرقم چھوڑی ہے،اس میں سب سے پہلے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات اداکئے جائیں، اگریہ اخراجات کسی وارث نےاحسان کے طورپراداکردئیے ہیں تواس صورت میں بھی یہ اخراجات ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے، اس کے بعددیکھیں اگر ان کے ذمہ کسی کےقرض کی ادائیگی باقی ہو تواس کواداکریں۔اس کے بعددیکھیں اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال میں سے ایک تہائی کی حدتک اس پرعمل کریں،اس کے بعد باقی مال کودرج ذیل طریقہ کارکے مطابق تقسیم کردیں:
|
نمبرشمار |
ورثہ کی تفصیل |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
مجموعہ |
|
1 |
بھتیجی |
8/32 |
25 |
25 |
|
2 |
بھانجا |
6/32 |
18.75 |
43.75 |
|
3 |
بھانجا |
6/32 |
18.75 |
62.5 |
|
4 |
بھانجی |
3/32 |
9.375 |
71.875 |
|
5 |
بھانجی |
3/32 |
9.375 |
81.25 |
|
6 |
بھانجی |
3/32 |
9.375 |
90.625 |
|
7 |
بھانجی |
3/32 |
9.375 |
100 |
حوالہ جات
۔۔۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲۸/جمادی الثانی۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سعید احمد حسن صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


