03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سودی قرض لینے والی کمپنی میں سرمایہ کاری کا حکم
89466جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم میرا سوال پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے بارے میں ہے کہ: کیا تمام پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی وہ کمپنیاں جو حلال کاروبار کرتی ہیں لیکن conventional loan یعنی سود پر مبنی قرض لے رکھی ہیں، کمپنی کے قرض کے فیصد کو دیکھ کر ان کا حساب لگا کر انہیں حلال یا حرام قرار دینا درست ہے؟ یہ index تو officially PSX میں موجود ہے، تو کیا اس میں سرمایہ کاری کرنا جائز ہے؟ یعنی کسی ایسی کمپنی میں جو سودی بینک سے قرض لے کر حلال کام کرتی ہو، سرمایہ کاری کرنا حلال ہے یا حرام؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت مطہرہ میں سود (ربا) لینا، دینا یا اس میں شریک ہونا حرام ہے۔ اسی لیے اگر کوئی کمپنی کسی بھی درجے میں سودی لین دین میں ملوث ہو تو اصولی طور پر اس میں شراکت داری ناجائز ہونی چاہیے۔ تا ہم کمپنی کے قوانین میں چند شیئرز رکھنے والے مالک کی رائے معتبر نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اسپانسر یا اکثریتی حصص مالکان کی رائے معتبر ہوتی ہے، ایسی صورت میں بے اختیار شیئر ہولڈرز اپنی عدم رضامندی منتظمین تک پہنچا دیں تو شرعی ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے۔لہذا اگر کوئی KMI30 کے انڈیکس کے مطابق کمپنی کا شیئر خریدے تو بھی اس پر لازم ہے کہ وہ AGM میں سود کے خلاف اواز اٹھائے یا کمپنی کو اس کے آفیشل ای میل پر سودی معاملات ترک کرنے کی نصیحت کرے اور اپنی عدم رضامندی کا اظہار کرے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے گا تو وہ گناہ کا مرتکب ہوگا۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 279):

وأما ‌شرائط ‌المعقود ‌عليه ‌فأن ‌يكون ‌موجودا ‌مالا متقوما مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه وأن يكون مقدور التسليم.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (3/ 211):

من استقرض من آخر ألفا على أن يعطي المقرض كل شهر عشرة دراهم وقبض الألف وربح فيها طاب له الربح.

التنبيه على مشكلات الهداية (5/ 800):

لأن ‌الإعانة ‌على ‌المعصية معصية.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (4/ 450):

وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - رجل استأجر رجلا ليصور له صورا أو تماثيل الرجال في بيت أو فسطاط فإني أكره ذلك وأجعل له الأجرة.

المعاییر الشرعیۃ( 568):

أن لا یبلغ اجمالی المبلغ المقترض بالربا، سواء أکان قرضا طویل الأجل أم قرضا قصیر الأجل، 30٪ من القیمۃ السوقیۃ (Market Cap) لمجموع أسھم الشرکۃ علما بأن الاقتراض بالربا مھما کان مبلغہ.

مجیب الرحمان بن محمد لائق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

29 /جمادی الثانیہ  /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مجیب الرحمٰن بن محمد لائق

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب