03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹے کی بیوی کو شہوت کے ساتھ چھونے کا حکم
89543نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

 ایک عورت کے سسر نے اس کو شہوت کے ساتھ چھوا بنا کسی حائل کے کمر پر ، ہاتھ لگانے سے اس کو انتشار بھی ہوا ، انزال بھی نہیں ہوا ، لیکن اس عورت کے سسر کاکہنا ہے کہ ہاتھ لگاتے ہوئے اس کے دل میں بہو کے ساتھ جماع کی رغبت پیدا نہیں ہوئی ۔ صرف لذت حاصل کرنا مقصد تھا ۔ کیا اس صورت میں میاں بیوی کا نکاح قائم ہے ؟ جس شرط کا میں نے ذکر کیا ہے وہ میں نے آپ کے فتوی میں پڑھی تھی .۔فتویٰ نمبر : 87899

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی عورت کو چھونے سے حرمت مصاہرت کے ثبوت کے لیے  چند شرائط ہیں ان شرائط کے پائے جانے کی صورت میں حرمت مصاہرت ثابت  ہوتی ہے ورنہ نہیں ، وہ شرائط درج ذیل ہیں:

1۔چھونا شہوت سے ہو،یعنی چھونے کے دوران عضو خاص میں انتشار آجائے یا پہلے سے موجود انتشار بڑھ جائے۔

2۔شہوت چھونے کے دوران ہو،اگرچھونے کے بعد(یعنی ہاتھ ہٹالیا اور پھر) شہوت آئی تو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔

3۔جسے چھوا ہو شہوت اسی پر آئی ہو،لہذا اگر شہوت کسی اور پر آئی اور اس دوران ہاتھ یا بدن کا کوئی حصہ کسی اور عورت سے مس ہوگیا تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔

4۔چھونے کے بعداسی انتشارکی حالت میں  انزال نہ ہوا ہو،اگر انزال ہوجائے تو بھی حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔

5۔درمیان میں کوئی کپڑا حائل نہ ہو  یا  کپڑا ہے   تو وہ اتنا باریک ہو جس سے  جسم کی حرارت محسوس ہوتی  ہو۔

6۔ جس عورت کو چھوا ہووہ مشتہاۃ ہو یعنی  اس کی عمر اتنی  ہو کہ اس کو دیکھ کر شہوت  پیدا ہو سکتی  ہو ۔

7۔ جس عورت کو شہوت کے ساتھ چھوا ہے اس کے متعلق دل میں جماع کی رغبت بھی پیدا ہوئی ہو  ۔یہ آخری شرط امداد الاحکام  میں مذکور ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے :

امداد الاحکام جلد دو صفحہ 797 تا 809 مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب  نوراللہ مرقدہ نے سوال کا جواب لکھ کر فتاوی قاضی خان کی عبارت کا  حوالہ دیا جواب لکھنے کے بعد بغرض ملاحظہ حضرت حکیم الامت نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں پیش کیا جس کے جواب میں حضرت نے فرمایا کہ جواب کا دار و مدار دو باتوں پر ہے نمبر ایک یہ کہ شہوت محرمہ میں انتشار بمعنی نفوط  تام شرط ہے مجھے اس میں کلام ہے ، دوسرا ر غبت جماع و خواہش مواقعت مجھے اس میں بھی کلام ہے۔ جس کے بعد حضرت ظفر احمد عثمانی صاحب نے سوال مظاہر علوم سہارنپور بھیجا جس میں ان حضرات نے دوسری شرط (رغبت جماع کا ضروری ہونا) کی تائید فرمائی  پھر مزید مولانا عبد الرحمن صاحب صدر المدرسین مظاہر علوم سہارنپور سے رائے معلوم کرنے کے بعد تمام تحریرات مولوی خبیب احمد صاحب کیرانوی کو دی گئی کہ وہ بھی ان کو دیکھ کر اپنی رائے لکھیں۔ انہوں نے تحقیق متعلق بحرمت مصاہرت بالمس والنظر کے عنوان سے پیش کی جس میں چند صورتیں بنائی جس میں ایک شرط یہ بھی لگائی کہ  شہوت کے ساتھ رغبت جماع نہ ہو تو حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی ۔ علماء ثلاثہ نے پہلی علت  ( نفوط تام)  کوتسلیم نہیں کیا  دوسری علت ( رغبت جماع کے ضروری ہونے) کو تسلیم کیا۔اس کےبعد حضرت ظفر احمد عثمانی صاحب نے   اپنی پہلی رائے (نفوط تام ) سے رجوع کیا  اور دوسری پر قائم رہے ۔ تفصیل کے لئے دیکھیے 🙁 امدادالاحکام  جلد دو صفحہ 797تا 809)

لہذا  امداد الاحکام کی عبارت سے یہ بات تو ثابت ہوتی ہے کہ شہوت کے ساتھ رغبت جماع بھی ضروری ہے،لیکن یہ یاد رہے کہ رغبت جماع تھی یا نہیں اس میں چھونے والے کا محض دعوی کافی نہیں بلکہ  وہاں رغبت جماع  نہ ہونے کے قرائن بھی موجود ہوں  جس سے مرد کے دعوی ( رغبت جماع نہیں تھی ) کی تائید  ہوتی ہو اور وہ اس پر حلفیہ بیان بھی دے مثلا :     غفلت میں   کسی  محرم  عورت کو اس کا ہاتھ لگ گیا اور مرد یہ حلفیہ بیان دیتا ہے کہ میری جماع کرنے کی رغبت نہ تھی اور عورت کو اس کی قسم پر اعتماد ہو تو حرمت مصاہرت کا حکم نہیں لگے گا ۔البتہ  مرد عورت کو شہوت کے ساتھ چھو ئے  اور اس شہوت سے اس کو انتشار بھی ہو  اور پھر مرد یہ دعوی کر دے کہ میری  نیت جماع کی نہیں تھی تو اس کی دونوں باتوں میں تعارض ہے  کیونکہ کسی عورت کو شھوت کے ساتھ چھونا اور پھر اس کی وجہ سے انتشار پیدا ہوجانا رغبت جماع کی واضح علامت ہے باقی وہ کسی بدنامی وغیرہ کی وجہ سے جماع پر جرأت نہ کر سکتا ہو تووہ الگ بات ہے اس سے حکم پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔لہذاصورتِ مسئولہ میں   مردکے  عورت کو    چھونےاور انتشار ہو جانے کے باوجود  رغبت جماع نہ ہونے کا دعوی کرنا خلاف ظاہر ہے ،جو شرعا معتبر نہیں   اس لیے مذکورہ صورت میں ملموسہ عورت سے حرمت مصاہرت اور اس سے متعلقہ احکام ثابت ہو جائیں گے۔واللہ اعلم

حوالہ جات

ج 1 ص 168

و فی قاضی خان ، ودليل الشهوة على قول أبو الحسن القمى انتشار الآلة عند ذلك ان لم يكن منتشرا قبل ذلك وان كانت منتشرة قبل ذلك فعلامة الشهوة زيادة الانتشار والشدة ثم ذكر معنى الشهوة في حق الشيخ والعنين ثم قال ، وقال عامة العلماء : الشهوة أن يميل قلبه إليها ويشتهى أن يواقعها .

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 33):

ويشترط وقوع الشهوة عليها لا على غيرها لما في الفيض لو نظر إلى فرج بنته بلا شهوة فتمنى جارية مثلها فوقعت له ‌الشهوة على البنت تثبت الحرمة، وإن وقعت على من تمناها فلا.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 222) دار الفكر-بيروت:

وكثير من المشايخ لم يشترطوا سوى أن يميل قلبه إليها ويشتهي جماعها، وفرع عليه ما لو انتشر فطلب امرأته فأولج بين فخذي بنتها خطأ لا تحرم عليه الأم ما لم يزدد الانتشار. ثم هذا الحد في حق الشاب أما الشيخ والعنين فحدها تحرك قلبه أو زيادة تحركه إن كان متحركا لا مجرد ميلان النفس فإنه يوجد فيمن لا شهوة له أصلا كالشيخ الفاني.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 32):

حرم ‌أيضا ‌بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة......

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 33):

والعبرة ‌للشهوة ‌عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى وفي امرأة ونحو شيخ كبير تحرك قبله أو زيادته وفي الجوهرة: لا يشترط في النظر لفرج تحريك آلته به يفتى هذا إذا لم ينزل فلو أنزل مع مس أو نظر فلا حرمة به يفتي.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 33):

‌قال ‌في ‌الفتح: ‌وقوله: ‌بشهوة ‌في ‌موضع الحال، فيفيد اشتراط الشهوة حال المس، فلو مس بغير شهوة، ثم اشتهى عن ذلك المس لا تحرم عليه. اهـ.

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 188):

ولو ‌مس ‌فأنزل ‌فقد ‌قيل ‌إنه ‌يوجب ‌الحرمة والصحيح أنه لا يوجبها لأنه بالإنزال تبين أنه غير مفض إلى الوطء...

عادل ارشاد

دار الافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

3/رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عادل ولد ارشاد علی

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب