03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حالت سفر میں قصر نماز پڑھنے کا حکم
89484نماز کا بیانمسافر کی نماز کابیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دینِ متین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں:میرے والد صاحب فوت ہو گئے ہیں۔ ہماری مستقل رہائش اپر سوات میں ہے۔ پشاور میں میرے والد صاحب کی جائیداد ہے، جس میں کرایہ کے مکان بنے ہوئے ہیں اور ہم ان کا کرایہ وصول کرتے ہیں۔ اس جائیداد میں ایک کمرہ ہے، جسے میرے والد صاحب نے کرایہ پر نہیں دیا۔ اس کمرے میں کارپٹ بچھا ہوا ہے، تین چار بستر سونے کے لیے موجود ہیں، اور پکانے کے برتن  وغیرہ بھی رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر ضروریاتِ زندگی مثلاً کپڑے وغیرہ موجود نہیں ہیں۔والد صاحب کی حیات میں جب میں مہینے میں ایک دو دن کے لیے پشاور جاتا تھا، تو قصر کی نماز پڑھتا تھا۔ اب جبکہ وہ فوت ہو چکے ہیں، تو ہم نے منقولی اشیائے میراث تقسیم کر لی ہیں، لیکن چونکہ میرے بڑے بھائی سعودی عرب میں ہیں، اس لیے جائیداد کی تقسیم نہیں کی۔ اب بھی میں ہر مہینے کرایہ وصول کرنے کے لیے سوات سے پشاور جاتا ہوں۔ تو کیا میں سفر کی نماز پڑھوں یا حضر کی؟ مدلل جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سفر کی شرعی مسافت ایک طرف سے کم از کم سوا ستتر (77.25) کلو میٹر ہے۔ اگر آپ کا یک طرفہ سفر سوا ستتر کلو میٹر یا اس سے زیادہ ہو، اور پشاور میں پندرہ دن سے کم آپ کا  ٹھہرنے کا ارادہ ہو  جو کہ نہ آپ کا وطن اصلی ہے اور نہ وطن اقامت ہےتو  وہاں پر آپ سفر کی نماز (قصر) پڑھیں گے ۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 139):

ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية…اختلف المتأخرون في الذين يسكنون في الخيام والأخبية في المفازات من الأعراب والتراكمة هل صاروا مقيمين بالنية عن أبي يوسف فيه روايتان في إحداهما لا وفي الأخرى قال: يصيرون مقيمين وعليه الفتوى، كذا في الغياثية…ولو بقي في المصر سنين على عزم أنه إذا قضى حاجته يخرج ولم ينو الإقامة خمسة عشر يوما قصر، كذا في التهذيب…وإذا دخل المسافر مصره أتم الصلاة وإن لم ينو الإقامة فيه سواء دخله بنية الاختيار أو دخله لقضاء الحاجة، كذا في الجوهرة النيرة.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 131):

 (الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه(يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما (لا غير و) يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بالوطن (الأصلي و) بإنشاء (السفر) والأصل أن الشيء يبطل بمثله، وبما فوقه لا بما دونه ولم يذكر وطن السكنى وهو ما نوى فيه أقل مننصف شهر لعدم فائدته.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 142):

عبارة عامة المشايخ أن الأوطان ثلاثة: وطن أصلي وهو مولد الرجل أو البلد الذي تأهل به، ووطن سفر وقد سمي وطن إقامة وهو البلد الذي ينوي المسافر الإقامة فيه خمسة عشر يوما أو أكثر...ويبطل الوطن الأصلي بالوطن الأصلي إذا انتقل عن الأول بأهله وأما إذا لم ينتقل بأهله ولكنه استحدث أهلا ببلدة أخرى فلا يبطل وطنه الأول ويتم فيهما ولا يبطل الوطن الأصلي بإنشاء السفر وبوطن الإقامة ووطن الإقامة يبطل بوطن الإقامة وبإنشاء السفر وبالوطن الأصلي، هكذا في التبيين...ولو انتقل بأهله ومتاعه إلى بلد وبقي له دور وعقار في الأول قيل: بقي الأول وطنا له وإليه أشار محمد - رحمه الله تعالى - في الكتاب، كذا في الزاهدي ثم تقدم السفر ليس بشرط لثبوت الوطن الأصلي بالإجماع، كذا في المحي.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

04/رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب