03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لڑکی کے نکاح کاحق ولایت
89612نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

لڑکی کے نکاح کا حق ِولایت

والداگربیٹی  کانکاح(جوکہ بالغہ ہو) کسی ایسے لڑکے سے کرنےکی اجازت دے دیں  ہوجوغیرکفومیں ہو،لیکن لڑکی کے بھائی اس رشتے پر راضی نہ ہوتووالد  کی زبانی اجازت کافی ہے،اس سےنکاح منعقدہوجائےگا۔ایسی صورت میں حق ِوالایت  کس کو ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح میں حقِ ولایت سب سے پہلے والد کو حاصل ہوتا ہے۔ اگر والد موجود نہ ہوتو  دادا کو۔ اگر دادا بھی موجود نہ ہوں تو پھر یہ حق بھائی کو حاصل ہوتا ہے۔لہذاوالداگر زبانی اجازت دے دے بھائی اگرچہ اس رشتے پر راضی نہ ہو،تواس کی زبانی اجازت کافی ہے،اس سےنکاح منعقدہوجائےگا۔

حوالہ جات

المحيط البرهاني (3/ 41):

‌أقرب ‌الأولياء ‌إلى ‌المرأة الابن وإنه على الخلاف على ما يأتي بيانه بعد هذا، ثم ابن الابن وإن سفل، ثم الأب، ثم الجد، أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب، ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم الابن الأخ لأب وإن سفلوا، ثم العم لأب وأم.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 283):

وأقرب الأولياء إلى المرأة الابن ثم ابن الابن، وإن سفل ثم الأب ثم الجد أبو الأب، ثم الأخ لأب وأم ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم ثم ابن الأخ لأب، وإن سفلوا ثم العم لأب وأم ثم العم لأب ثم ابن العم لأب وأم.

 

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية(4/141):

وإذازوجهاأحدالأولياءمن غيركفوبرضاهالايكون للاآخرحق الاعتراض.

 

 

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 195):

وإذا زوجت المرأة نفسها من غير كفء فللأولياء أن يفرقوا بينهما" دفعا لضرر العار عن أنفسهم.

عزیزالرحمن

  دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی

08/رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیز الرحمن بن اول داد شاہ

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب