03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا ہیک شدہ آئی ڈی سے پوسٹ ہونے پر گستاخی کا حکم لگتا ہے؟
89644جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارےمیں کہ

ایک نہایت حساس، فتنہ انگیز اور اضطراری معاملہ میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔ واقعہ کی تفصیل درج ذیل ہے:

ایک مسلمان شخص، نام: جہانگیر احمد جاوید، جو اپنے علاقے میں ایک معزز، معروف اور دیندار فرد ہے، اس کے بارے میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا کہ کسی نامعلوم شخص یا اشخاص نے اس کی فیس بک آئی ڈی ہیک کرلی۔ ہیک شدہ آئی ڈی سے ایک ایسی تحریر شائع کی گئی جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نہایت غلط، بے بنیاد اور نامناسب الفاظ لکھے گئے۔ مذکورہ شخص وہ تحریر نہ خود لکھنے والا ہے نہ اس کا کبھی ایسا عقیدہ رہا ہے بلکہ وہ ایسا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جیسے ہی اسے اس جعلی پوسٹ کا علم ہوا، اس نے دو گھنٹے کے اندر فیس بک پر تحریری تردید شائع کی اور ویڈیو پیغام کے ذریعے واضح اعلان کیا کہ یہ پوسٹ اس کی نہیں، اعلانیہ کہا کہ اگر کبھی دانستہ یا نادانستہ اس سے ایسی کوئی بات سرزد ہوئی ہو تو وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ پوسٹ واقعی اس نے نہیں کی تھی، بلکہ یہ آئی ڈی ہیک ہونے کا معاملہ تھا۔ اس کے باوجود بعض افراد نے ذاتی دشمنی، سیاسی مخالفت اور بدنیتی کی بنا پر ضلع باغ، آزاد کشمیر کے تھانے میں اس کے خلاف متعدد درخواستیں دے دیں بغیر ایف آئی آر کے اسے کئی دن حراست میں رکھا گیا، شدید ذہنی دباؤ، خوف اور جان کے خطرے کی وجہ سے وہ عارضی طور پر کراچی منتقل ہو گیا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ جہانگیر احمد جاوید حضرت علیؓ سمیت تمام صحابہ کرامؓ سے دل سے محبت، عقیدت اور احترام رکھتا ہے اس الزام کو وہ جھوٹ، بہتان اور فتنہ سمجھتا ہے۔ اس پوری صورتحال نے اسے شدید ذہنی و نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔

شرعی سوالات:

دارالافتاء جامعہ الرشید سے درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی اور تحریری فتویٰ مطلوب ہے:

 ١۔ کیا ایسی صورت میں، جبکہ تحریر اس شخص کی نہیں بلکہ اس کی فیس بک آئی ڈی ہیک ہونے کی وجہ سے شائع ہوئی ہو، شرعاً اس پر گستاخیِ صحابہؓ کا حکم لگتا ہے یا نہیں؟ جبکہ اس نے فوراً اور علانیہ تردید، براءت اور استغفار کر لیا ہو، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا ایسے شخص کو شرعاً گناہ گار قرار دیا جائے گا؟

 ۲۔ کیا جان، عزت اور آزادی کے خطرے کی صورت میں عارضی طور پر علاقہ چھوڑ دینا شرعاً جائز ہے؟

۳۔کیا وہ اس شرعی فتوے کی بنیاد پر اپنے آبائی گاؤں واپس جا سکتا ہے؟براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں واضح، تحریری اور مدلل فتویٰ عنایت فرمایا جائے، تاکہ ایک بے گناہ مسلمان کی جان، عزت اور ذہنی سکون بحال ہو سکے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

١۔ اگر یہ بات ثابت ہو جائے، یا مضبوط قرائن و شواہد سے واضح ہو کہ متعلقہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک ہوا تھا اور وہ تحریر خود اس شخص نے نہیں لکھی، تو اس پر گستاخی یا توہین کا حکم عائد نہیں کیا جا سکتا۔

خصوصاً جبکہ وہ شخص اس تحریر سے صراحتاً لاتعلقی کا اظہار کر رہا ہو اورویڈیو پیغام کے ذریعے اپنی پوزیشن بیان کر دی ہو اور اس کا سابقہ ریکارڈ دینداری اور حسنِ سیرت پر مبنی ہو، تو ایسی صورت میں اس کے خلاف کسی قسم کی شرعی یا سماجی کارروائی کرنا ،اس پر مزید الزام تراشی کرنا یا اسے گناہ گار قرار دینا شرعاً درست نہیں۔اسلام میں کسی مسلمان پر بہتان لگانا، یا اس کی صریح وضاحت کے باوجود اسے مجرم ٹھہرانا، سخت ناپسندیدہ عمل اور کبیرہ گناہ ہے۔

۲۔شریعتِ اسلامیہ میں حفظِ نفس (جان کی حفاظت) کو بنیادی اور اعلیٰ اہمیت حاصل ہے۔اگر کسی مقام پر کسی شخص کی جان، عزت یا مال کو حقیقی اور سنگین خطرہ لاحق ہو، تو وہاں سے عارضی طور پر ہجرت کرنا یا کسی محفوظ جگہ منتقل ہونا نہ صرف جائز بلکہ بعض حالات میں ضروری ہو جاتا ہے۔نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی حیاتِ طیبہ میں بھی جان اور دین کی حفاظت کے لیے ہجرت کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔

۳۔جہاں تک آبائی گاؤں واپسی کا تعلق ہےتو اگر اس شخص کی بے گناہی ثابت ہو جائے اور حالات سازگار ہوں، تو بلاشبہ وہ اپنے علاقے میں واپس جا سکتا ہے۔ایسی صورت میں اہلِ علاقہ اور مقامی انتظامیہ کے لیے اس شخص کو ہراساں کرنا یا اس کے خلاف کسی قسم کی کارروائی جاری رکھنا شرعاً ناجائز ہوگا۔بے گناہ شخص کو اس کے گھر اور آبائی وطن سے دور رکھنا ظلم ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔

حوالہ جات

القاعدة القرآنية (أهمية التثبت)

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ} [الحجرات: 6]

وفی تفسير ابن كثير ت سلامة (7/ 370)

يأمر تعالى بالتثبت في خبر الفاسق ليحتاط له، لئلا يحكم بقوله فيكون -في نفس الأمر-كاذبا أو مخطئا، فيكون الحاكم بقوله قد اقتفى وراءه، وقد نهى الله عن اتباع سبيل المفسدين، ومن هاهنا امتنع طوائف من العلماء من قبول رواية مجهول الحال لاحتمال فسقه في نفس الأمر، وقبلها آخرون لأنا إنما أمرنا بالتثبت عند خبر الفاسق، وهذا ليس بمحقق الفسق لأنه مجهول الحال.

مجلة الأحكام العدلية (ص: 17) (المادة 8) : الأصل براءة الذمة.وفیہ ایضا (ص: 16) (المادة 4) : اليقين لا يزول بالشك

حديث نبوي (تحريم البهتان)

قال النبي ﷺ: «من رمى مؤمناً بكفر فهو كقتله» (البخاري) وقال: «من قال لأخيه يا كافر فقد باء بها أحدهما» (مسلم)

حفظ النفس والهجرة الدليل القرآني (وجوب الهجرة عند الخوف على النفس)

قال تعالى:

(إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا﴿ [النساء: 97)

{وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ} [البقرة: 195]

علم المقاصد الشرعية (ص: 81)

حفظ النفس هو الكلية المقاصدية الشرعية الثانية، ومعناها: مراعاة حق النفس في الحياة والسلامة والكرامة والعزة قال تعالى: {وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ} 1 وقال تعالى: {لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيم} 2.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

13/رجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب