03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بھنگ کی کاشت کرنے والے کے ہاں کھانے ،پینے کاحکم
89674شراب کے احکامالکحل کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں ! کہ جب رائیونڈ سے ہمارے علاقے تیراہ میں تبلیغی جماعتیں آتی ہیں، تو ان میں سے بعض جماعتوں کے احباب علاقے والوں کی دعوت قبول نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ یہ حرام ہے،کیونکہ علاقے والے کھیتوں میں بھنگ کاشت کرتے ہیں اور پوری نوعیت علاقے کی ایسی  ہے کہ علاقے میں بھنگ کی کاشت بھی ہوتی ہے اور ان کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی علاقے میں بڑا بازار ہے کاروبار مارکیٹیں ہیں، ہزاروں گاڑیوں اور ہزاروں نوکریوں کی آمدنی ہیں اور تقریبا نوے 90 فیصد گھروں سےلوگ دو بئی، قطر، سعودی عرب اور کویت وغیرہ میں کاروبار اور مزدوری کرتے ہیں، تو کیا ایسی صورت حال میں جبکہ آمدنی مخلوط ہیں تبلیغی جماعت والوں یا عام مسلمانوں کو ان مذکورہ اہل علاقہ کی دعوت کو قبول کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

نوٹ : تبلیغی جماعت والے اگر دعوت قبول نہیں کرتے تو وہ لوگ بہت ناراض بھی ہوتے ہیں شریعت کی روشنی میں مدلل بیان فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کسی شخص کے مال میں حلال و حرام اس قدر مخلوط ہوں کہ ان میں فرق کرنا ممکن نہ ہو اور غالب گمان یا یقین یہ ہو کہ حرام مال کی مقدار زیادہ ہےتو ایسا مال حرام کے حکم میں ہوگا اور اس کی دعوت قبول کرنا جائز نہیں ،الا یہ کہ وہ تصریح کرے کہ یہ دعوت حلال مال سے کر رہا ہوں ۔لیکن اگر غالب حصہ حلال مال کا ہو تو پورا مال حلال کے حکم میں ہوگا اور ایسی دعوت میں شرکت کی گنجائش ہوگی، الا یہ کہ کسی طرح پتہ چل  جائے کہ دعوت کا مال حرام ہےتو پھر کھانا جائزنہیں ہوگا۔

بھنگ  صرف نشہ کے لیے استعمال نہیں ہوتی بلکہ اس کے اور بھی استعمالات ہیں اس لیے اس کی کاشت سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام نہیں، لہٰذا ایسے تاجر کے ہاں کھانا پینا اور دعوت قبول کرنا بھی جائز ہے ،تاہم اگر کوئی شخص صرف چرس اور حرام نشہ آور اشیاء ہی کی تجارت کرتا ہو اور اسی کو ذریعہ معاش بنایا ہوا ہو تو اس کی آمدنی ناجائز ہونے کی وجہ سے اس کے ہاں کھانا پینا یا دعوت قبول کرنا درست نہیں۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (5/ 342):

أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 454):

(وصح بيع غير الخمر) مما مر، ‌ومفاده ‌صحة ‌بيع ‌الحشيشة ‌والأفيون.

قلت: وقد سئل ابن نجيم عن بيع الحشيشة هل يجوز؟ فكتب لا يجوز، فيحمل على أن مراده بعدم الجواز عدم الحل.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 454):

(قوله وصح بيع غير الخمر) أي عنده خلافا لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع...ثم إن البيع وإن صح لكنه يكره كما في الغاية ... (قوله مما مر) أي من الأشربة السبعة (قوله ومفادة إلخ) أي مفاد التقييد بغير الخمر، ولا شك في ذلك لأنهما دون الخمر وليسا فوق الأشربة المحرمة، فصحة بيعها يفيد صحة بيعهما فافهم (قوله عدم الحل) أي لقيام المعصية بعينها.

محمد طلحہ فلک شیر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

17/رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طلحہ ولد فلک شیر

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب