| 89659 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں جانتا ہوں کہ اسلام میں جمہوریت حرام ہے۔ لیکن اگر ووٹ میں دو پارٹیاں ہوں۔ 1 (پہلی جماعت اکثریتی مسلمان ہے لیکن توحید الحکیمیہ پر یقین نہیں رکھتی۔ لیکن اگر وہ ملک میں برسراقتدار آئے تو ملک میں فتنہ و فساد پیدا کریں گے اور دولت کی لوٹ مار، رشوت ستانی، اغوا، انارکی وغیرہ بڑھ جائیں گے۔) 2 (اور دوسری جماعت زیادہ تر اسلامی ہے، لیکن جماعت میں کچھ لوگ اسلام بیچ کر ووٹ چاہتے ہیں، اور کچھ معتدل مسلمان یا ماڈرنسٹ مسلمان ہیں، اور کچھ مودودی کے ماننے والے ہیں، لیکن اگر دوسری پارٹی حقیقت میں برسراقتدار آگئی تو کوئی فتنہ، مال کی چوری، رشوت، اغوا، انارکی وغیرہ میں پہلے کے مقابلے میں کمی آئے گی۔ لیکن وہ ملک میں توحید الحکیمیہ قائم کرنے کے قابل نہیں ہیں۔) 1. اب مجھے کس کو ووٹ دینا چاہئے؟ 2. اگر میں ووٹ نہیں دیتا ہوں، تو اقتدار میں آنے والی پہلی جماعت، جسے میں بالواسطہ طور پر اقتدار میں لا رہا ہوں، اقتدار میں آئے گی۔ اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورتِ حال میں جبکہ آپ کے پاس دو ہی امکانات ہیں اورآپ کی دیانت دارانہ رائے وہی ہے جو سوال میں بیان ہوئی تو دوسری پارٹی کو ووٹ دینا چاہیے،تاکہ پہلی پارٹی کے برسرِاقتدار میں آنے سے پھیلنے والی لوٹ مار ،اغوا،اور انارکی سے عام عوام کو بچایا جاسکے۔تاہم ہوسکتا ہے کسی اور ووٹرکا معلومات کے فرق کی وجہ سےتجزیہ مختلف ہو۔حالات مشتبہ ہوں تو اسلام اور مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ووٹ کا فیصلہ قابل احترام ہوگا۔
حوالہ جات
البحرالرائق(1/289):
ثم الأصل في جنس هذه المسائل :أن من ابتلي ببليتين وهما متساويتان يأخذ بأيهما شاء ،وإن اختلفا فعليه أن يختار أهونهما.
الدرالمختار مع ردالمحتار (1/412):
والضابط :أن من ابتلي ببليتين فإن تساويا خير ،وإن اختلفا اختار الأخف.
شرح الزيادات(1/234):
أن المبتلَى بين الشّرّين يَختار أهْونَهَما؛ لأن مباشَرة الحرام لا تُباح إلالضرورة.
محمد وجیہ الدین
دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی
15/رجب المرجب1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد وجیہ الدین بن نثار احمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


