| 89660 | وکیل بنانے کے احکام | متفرّق مسائل |
سوال
ایک دکان میں دو دوست موبائل فون کا کاروبار کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص موبائل فون کی ریپیئرنگ (مرمت) کا کام کرتا ہے، جبکہ دوسرا شخص موبائل فون کی خرید و فروخت کا کام کرتا ہے۔ موبائل فون کی خرید و فروخت کرنے والے شخص نے دکان میں موجود ہر موبائل فون کی ایک مقررہ قیمت طے کر رکھی ہے، مثلاً کسی موبائل کی قیمت 50,000 روپے مقرر کی گئی ہے۔ وہ اپنے ساتھی (جو مرمت کا کام کرتا ہے) سے یہ کہتا ہے کہ اگر میری غیر موجودگی میں کوئی گاہک آ جائے تو آپ ان موبائل فونز کو گاہک کے ساتھ بات چیت کر کے فروخت کر دیا کریں، اور اگر آپ مقررہ قیمت (مثلاً 50,000 روپے) سے زیادہ پر موبائل فروخت کر لیں، تو مقررہ قیمت سے زائد جتنی رقم ہو گی، وہ آپ کی ہوگی۔ مثال کے طور پر اگر کوئی موبائل جس کی قیمت 50,000 روپے مقرر ہے، 55,000 روپے میں فروخت ہو جائے تو اضافی 5,000 روپے مرمت کرنے والے شخص کے لیے ہوں گے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ: 1: اس معاملے کی شرعی و فقہی تکییف کیا ہے؟ 2:کیا اس طرح کا معاملہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ 3. اگر یہ صورت جائز نہیں ہے، تو کیا اس معاملے کی کوئی جائز اور درست شرعی صورت ممکن ہے؟ اگر ممکن ہو تو اس کی وضاحت فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو اپنی کسی چیز بیچنے کا کہے اور اس کی اجرت یہ طے ہو کہ مقررہ قیمت سے زائد جتنی رقم میں بھی بیچ دی وہ آپ کی ہوگی ، تو اجرت مجہول ہونے کی وجہ سے وکالت کا یہ معاملہ جائز نہیں ، لیکن اجرت کے مجہول ہونے کے باوجوداگر وکیل وہ چیز زائد قیمت پر بیچ دے تو موکل کی طرف سے مقررہ کردہ قیمت کے ساتھ زائد قیمت بھی موکل یعنی اصل مالک کی ہو گی،البتہ وکیل اجرت ِمثل کا مستحق ہو گا۔
اس کی جائز صورت یہ ہے کہ وکیل کےلیے کچھ اجرت پہلےسے متعین کردی جائےاور ساتھ یہ بھی کہہ دیا جائے کہ اس رقم سے زائد جو ہوگی وہ آپ کی۔تویہ معاملہ ٹھیک ہو گا۔
حوالہ جات
دررالحكام شرح مجلة الأحكام(662/1):
وإذا أعطى أحد ماله للدلال قائلاً إذا بعت المال بزيادة عن كذا فلك الزيادة فالإجارة فاسدة.
ردالمحتار مع الدرالمختار (5/521):
فرع: الوکیل إذا خالف، إن خلافا إلی خیر في الجنس کبیع بألف درهم فباعه بألف ومأة نفذ.
فتح القدير(8/3):
إذا أخذ الوكيل الأجرة لإقامة الوكالة فإنه غير ممنوع شرعا، إذ الوكالة عقد جائز لا يجب على الوكيل إقامتها فيجوز أخذ الأجرة فيها.
مجلة الأحكام العدلية(1/107):
لو أعطى أحد ماله للدلال وقال بعه بكذا دراهم فإن باعه الدلال بأزيد من ذلك فالفاضل أيضا لصاحب المال وليس للدلال سوى الأجرة.
شرح المجلة لخالد الأتاسي المادة:1467( 4/445):
وإنما يجب للوكيل أجر على عمله إن شرطه له ذلك صريحا أو بدلالة العرف والعادة بأن كان الوكيل ممن جرت عادتة أن يعمل بأجرة.
ردالمحتار مع درالمختار(6/46):
قوله:( لو المسمى معلوما) هذا إنما يصح لو زاد المصنف لا يتجاوز به المسمى كما فعل ابن الكمال تبعا للهداية والكنز، فكان على الشارح أن يقول إذا لم يكن مسمى أو لم يكن معلوما؛ لأن وجوب أجر المثل بالغا ما بلغ على ما أطلقه المصنف إنما يجب في هذين الصورتين أما لو علمت التسمية فلا يزاد على المسمى.
محمدوجیہ الدین
دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی
16/رجب المرجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد وجیہ الدین بن نثار احمد | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


