03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
storekeeper کی پوسٹ میں ملازمت کا حکم
89926اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

دبی میں ایک کمپنی ہے جس کا نام Azadea ہے اور اس کمپنی کےچیرمین کے ساتھ میرا بھائی ڈرائیور ہے۔ azadeaکمپنی کے ساتھ میرے کافی انٹرویوز ہوئے ہیں ان کو میں نے بتایا کہ میں نے administration assistant میں کام کیا ہے ۔ اور سابقہ کمپنی نے جو مجھے experience certificate دیا تھا وہ بھی administration assistant کا ہے۔ لیکن جس office میں میں کام کرتا تھا وہاں میں نے ایک شخص سے سنا تھا کہ میری post (office assistant) یا office boy کی ہے ۔

 Azadea كے ساتھ interviews کے بعد انہوں نے مجھے storekeeper کی جاب آفر کی ۔ مجھے شک ہےکہ شاید انہوں نے مجھے storekeeper کی job اس لیے دی ہےکیونکہ میں نے ان کو بتایا تھا میں نے administration assistant میں کام کیا ہے جب کہ میری (administration assistant) post کی نہیں تھی بلکہ office assistant یا office boy کی تھی اور میں نے وہاں بس کچھ دن کے لیے ہی کام کیا تھا۔ اب اگر یہ Azadea company مجھے storekeeper کی job دیتے ہیں اور training بھی دیتے ہیں تو کیا میری تنخواہ حلال ہوگی۔ کیونکہ مجھے storekeeper کے کام کا experience نہیں ہے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ نے انٹرویوز دیتے وقت جو غلط بیانی سے کام لیا اور غلط سرٹیفکیٹ  بنوایااس کی وجہ سے آپ گناہ گار ہوئےہیں،تاہم اگرآپ میں اس ملازمت کی صلاحیت ہے اور کمپنی اپنی صوابدید پر آپ کو رکھ رہی ہے تو حاصل شدہ تنخواہ آپ  کےلیے حلال ہوگی ۔آپ کو اپنی غلط بیانی پر استغفار کرنا چاہیے ۔

حوالہ جات

بلوغ المرام من أدلة الأحكام:الرقم 784

باب شروطه وما نهي عنه منه۔۔۔۔۔ عن رفاعة بن رافع رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم سئل: أي الكسب أطيب? قال: «عمل الرجل بيده، وكل بيع مبرور». رواه البزار، وصححه الحاكم. (1)

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق:5/134

والخاص الذي يستحق الأجرة ‌بتسليم ‌نفسه في المدة، وإن لم يعمل، وهذا يئول إلى الدور؛ لأن هذا حكم لا يعرفه إلا من يعرف الأجير المشترك والخاص.

الهداية في شرح بداية المبتدي:3/243

قال: "والأجير الخاص الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم" وإنما سمي أجير وحد؛ لأنه لا يمكنه أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه في المدة صارت مستحقة له والأجر مقابل بالمنافع، ولهذا يبقى الأجر مستحقا، وإن نقض العمل.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:4/174

وأما ركن الإجارة، ومعناها أما ركنها فالإيجاب والقبول وذلك بلفظ دال عليها وهو لفظ الإجارة، والاستئجار، والاكتراء، والإكراء فإذا وجد ذلك فقد تم الركن ۔۔۔ وأما صفة الإجارة فالإجارة عقد لازم إذا وقعت صحيحة عرية عن خيار الشرط والعيب والرؤية عند عامة العلماء.

   حنبل اکرم

   دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

    80 /شعبان المعظم /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب