| 89842 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میں شادی شدہ ہوں، میرے تین بچے بھی ہیں۔ آفس میں میری ایک دوست ہے جس کی عمر 33 سال ہوگی۔وہ شادی کی وجہ سے پریشان رہتی ہےاور اپنے گھریلو معاملات مجھ سے ڈسکس کرتی ہے۔ مجھے بھی وہ اچھی لگتی ہے، ہم گپ شپ لگاتے ہیں، ایک ساتھ گھومتے ہیں اور دیگر لڑکیاں بھی ہوتی ہیں۔ اب میری دوست اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم نکاح کرلیں۔ جب اس کا رشتہ ہوگا تو میں طلاق دے دوں گا۔ نکاح کے بغیر ہمیں گناہ کا خدشہ ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یاد رہے کہ نکاح کا مقصد صرف خواہش نفسانی کی تکمیل نہیں، بلکہ اس کا عظیم مقصد نسل انسانی کی بقاء اورمیاں بیوی کا ایک دوسرے کے ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بننابھی ہے۔جبکہ صورت مسئولہ میں صرف اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے نکاح کیا جارہا ہے، متعاقدین بظاہر چھپ کر نکاح کرنا چاہتے ہیں اورمحدود مدت کے بعد طلاق کا ارادہ بھی رکھتے ہیں جوکہ مناسب نہیں ہے۔اس سے بے شمار خاندانی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے، خاص طور پر عورت کے لیے مخفی نکاح تہمت پیدا کرنے کا بڑا سبب ہوگا،اس لیے ایسا کرنا جائز نہیں ۔نیز بغیر نکاح کے غیر محرم کے ساتھ تعلقات جاری رکھنا بھی حرام ہے۔ لہذا یا تو اعلانیہ نکاح کرکے تمام حقوق ادا کریں اور ممکنہ اولاد کی ذمہ داری اٹھائیں، یا نامحرم سے حرام تعلق کوختم کردیں۔
حوالہ جات
اللباب في شرح الكتاب:(3/20)
"(و) النكاح (المؤقت) وهو: أن يتزوج امرأة عشرة أيام مثلا (باطل)."
بدائع الصنائع:(3/187)
"وشرط التوقيت في النكاح يفسده، والنكاح الفاسد لا يقع به التحليل."
بحوث في قضايا فقهية معاصرة: (ص: 328)
النكاح بإضمار نية الفرقة: "ما دامت صيغة النكاح لا تتقيد بوقت ولا زمان، وتستوفي شروط انعقاد النكاح، فإن النكاح منعقد، والتمتع به جائز، وأما ما يضمره المتعاقدان أو أحدهما من نية الفرقة بعد اكتمال مدة ما، فلا أثر له في صحة النكاح ... وإن إضمار نية الفرقة منذ أول الأمر ينافي هذا المقصود، فلا يخلو من كراهية ديانة، فلا يصار إليه لا عند الضرورة من شدة الشبق ،فرارا من الزنا الحرام."
سید سمیع اللہ شاہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
17/رجب المرجب1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


