03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایپ LaiyePlusیا LYPEXکے ذریعے انویسٹمنٹ یعنی سرمایہ کاری کا حکم
90045جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

عرض ہے کہ آن لائن ٹریڈنگ کے بہت سے پلیٹ فارم اس وقت کام کر رہے ہیں، جن میں اکثر فیوچر ٹریڈنگ یا ایسی صورتیں شامل ہوتی ہیں جن میں جوا اور غرر کا احتمال پایا جاتا ہے، اس لئے وہ صورتیں تو صریحاً ناجائز اور حرام ہیں۔لیکن میرا سوال ایک الگ نوعیت کی ایپ کے متعلق ہے، جس کا معاملہ مضاربت جیسا ہے۔ کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس ایپ کے بارے میں جس میں:

  1. ربّ المال اپنی رقم ایک مضارب (یعنی کمپنی) کو دیتا ہے۔
  2. منافع کا باہمی رضامندی سے فیصد طے ہوتا ہے۔
  3. کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ ’’AI روبوٹ‘‘ کے ذریعے مارکیٹ کا تجزیہ کرکے اصل خرید و فروخت کرتی ہے، جیسے اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ ہوتی ہے۔
  4. خریدی اور بیچی جانے والی چیزیں ایپ میں آرڈر کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں کہ آپ کا آرڈر کا وقت رقم یہ ہے اور یہ منافع ہے۔
  5. ہر وقت پوری رقم نکالنے کی سہولت ہے، کوئی جبری مدت یا شرط نہیں۔
  6. کمپنی بین الاقوامی رجسٹرڈ ہے اور لائسنس بھی بظاہر درست نظر آتا ہے۔
  7. اختیار پورے کا پورا ربّ المال کی طرف سے مضارب (کمپنی) کو دیا جاتا ہے، روبوٹ کو مضارب نہیں سمجھا جاتا بلکہ صرف سسٹم کی حیثیت ہے۔

استفسار یہ ہے:

کیا اس طرح AI پر مبنی مضاربت، جس میں اصل کمپنی مضارب ہو اور خرید و فروخت کا عمل حقیقی طور پر ہو رہا ہوشرعی اعتبار سے درست ہے یا نہیں؟کیا اس طرح کی ایپس میں سرمایہ کاری کرنا جائز ہوگا؟براہِ کرم اس کی تفصیلی شرعی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ کمپنی یا ایپ کا بزنس ماڈل شریعت کے مطابق نہیں ہے ،اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے۔

(1)کمپنی کی ویب سائٹ پر موجود اشتہارات سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ بظاہر یہ ایک پونزی اسکیم ہے،اس لیے کہ کمپنی نےانویسٹمنٹ کا کم از کم 2.5 فیصد یومیہ نفع کا دعوی کیا ہے،اگر یہ فکس ہو تو شرعاً درست نہیں،اور اگر یہ متوقع نفع ہو تو عملاً تقریباً ناممکن ہے ،اس لیے کہ 2.5 فیصد یومیہ نفع کا مطلب ہے ماہانہ 75 فیصد نفع اور سالانہ تقریباً 900 فیصد نفع اور اتنا زیادہ نفع کسی حقیقی کاروبار میں عام طور پر ممکن نہیں ہوتا۔

(2)دوسری بات یہ ہے کہ ویب سائٹ پر موجود تفصیل کے مطابق یہ ایپ کرپٹو میں ٹریڈنگ کرتی ہے اور کرپٹو کے حوالے سے دارالافتاء کی رائے، اب تک کی دستیاب معلومات کے مطابق اجتناب کی ہے۔تفصیل کے لیے دارالافتاء جامعۃ الرشید کی آفیشل ویب سائٹ Almuftionline.com پر موجود درج ذیل فتاویٰ ملاحظہ کیے جائیں:

  1. فتویٰ نمبر 81020 بعنوان:
    "
    بائنانس (Binance) اور کرپٹو ٹریڈنگ کا حکم"
  2. فتویٰ نمبر 84734 بعنوان:
    "
    کرپٹو کی ٹریڈنگ کے ذریعے پیسے کمانے کا حکم"

ان فتاویٰ میں کرپٹو کرنسی اور اس سے متعلقہ معاملات کا شرعی حکم تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

(3)تیسری بات یہ ہے کہ مذکورہ ایپ کے یوزر ایگریمنٹ (User Agreement)  میں موجود مذکورہ ایپ کی سروسز کے بارے میں جو تفصیل لکھی ہے ،اس کے مطابق کمپنی ڈیجیٹل ایسٹس میں کام کرتی ہےاور اسپاٹ و فیوچر دونوں طرح کی ٹریڈنگ کرتی ہے،اس سے بھی یہ بات واضح ہے کہ یہ ایپ شرعی احکام کے مطابق انویسٹمنٹ لے کر کاروبار نہیں کرتی ہے بلکہ مروجہ آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کی طرح کرپٹو میں کام کرتی ہےاور مروجہ فاریکس ٹریڈنگ کئی شرعی خرابیوں کی وجہ سے ناجائز ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ کئی مفاسد کی وجہ سے مذکورہ ایپ کے ذریعے انویسٹمنٹ کرنا اور اس سے نفع کمانا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

24.شوال1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب